دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

اپنے آگے حضرت بلال کی جوتوں کی آہٹ سنی یہ آہٹ آج کی نہ تھی بلکہ بعد قیامت جب جنت میں حضور داخل ہوں گے تب حضرت بلال ہٹو بچو کرتے آگے ہوں گے وہ آہٹ حضور آج سن رہے ہیں۔تیسرے یہ کہ حضور لوگوں کے اعمال پر مطلع ہیں کہ کون کیا کرتا ہے۔

۴؎  عمرو ابن عامر قبیلہ بنی خزاعہ کا ایک شخص تھا جس نے عرب میں بت پرستی اور بتوں کے نام پر جانور چھوڑنا ایجاد کیا،اسے بھی حضور انور نے اسی عذاب میں گرفتار دیکھا۔سائبہ وہ اونٹنی جو بتوں کے نام پر چھوڑ دی جاوے اس پر کوئی سواری نہ کرے،وہ جہاں چاہے چرتی پھرے کوئی اسے روک ٹوک نہ کرے جیسے ہندوؤں کے سانڈ بجار۔بعض روایات میں عمرو ابن لُحی آیا ہے،ہوسکتا ہے کہ عامر اس کے باپ کا نام ہو اور لُحی اس کے دادا کا نام لہذا حدیثوں میں تعارض نہیں۔(اشعہ)حضور انور نے اس کو آگ میں جلتے نماز کسوف میں بھی دیکھا ہے۔

5342 -[4] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن زينبَ بنتِ جحشٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دخل يَوْمًا فَزِعًا يَقُولُ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيلٌ للعربِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ» وَحَلَّقَ بِأُصْبَعَيْهِ: الْإِبْهَامَ وَالَّتِي تَلِيهَا. قَالَتْ زَيْنَبُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَنُهْلَكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِذا كثُرَ الخَبَثُ» .

روایت ہے حضرت زینب بنت جحش سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک دن ان کے پاس گھبراہٹ میں تشریف لائے فرماتے تھے لا الہ الا الله عرب کی خرابی ہے اس شر سے جو قریب آگئی ۱؎  آج یا جوج ماجوج کی دیوار سے اس کی برابر کھل گئی ۲؎  اور اپنے انگوٹھے اور اس سے ملی ہوئی انگلی کا حلقہ بنا لیا،جناب زینب فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا ہم ہلاک کردیئے جاویں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ ہوں۳؎ فرمایا ہاں جب کہ خباثت بڑھ جاوے۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎  اس شر سے مراد وہ جنگیں اورفتنے ہیں جو حضور انور بلکہ عہد فاروقی کے بعد عرب میں ظاہر ہوئے حضور نے وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے، حضور کی یہ گھبراہٹ ان لوگوں پر شفقت کی وجہ سےتھی۔(اشعہ)

۲؎  یہ دوسری آفت کی خبر ہے۔دیوار سے مراد وہ آہنی دیوار ہے جو سکندر ذوالقرنین نے قوم یا جوج ماجوج کو بند کرنے کے لیے دو پہاڑوں کے درمیان بنائی تاکہ وہ لوگ اس دنیا میں نہ آسکیں۔یاجوج ماجوج کافر انسان ہیں جو بہت قوی بڑی جسامت والے قد آور ہیں،قریب قیامت یہ دیوارگرے گی اور یاجوج ماجوج نکل کر اس دنیا میں آکر آفت ڈھادیں گے۔اس دیوار میں سوراخ ہوجانا اس کے گرنے کا قرب بتانا ہے یہ بھی علامت قیامت ہے۔اس سے پتہ لگا کہ حضور کی نظر سارے جہان پر ہے کہ مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے یاجوج ماجوج کی دیوار اس کا سوراخ ملاحظہ فرما رہے ہیں۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے مراد چنگیزی ترکوں کا نکلنا ہے،دنیا خصوصًا اہل عراق کا ان کے ہاتھوں ہلاک ہونے کی طرف اشارہ ہے۔(اشعہ)مگر پہلے معنی قوی تر ہیں۔

۳؎ یہ سوال پہلے فرمان کے متعلق ہے کہ حضور نے فرمایا شر قریب آگئی۔سوال کا مقصد یہ ہے کہ ہم اہل عرب میں مؤمنین صالحین ہیں اور رہیں گے تو کیا انکے ہوتے ہوئے عرب میں یہ شر پھیل جاوے گی۔

۴؎  یعنی جب مسلمانوں میں فسق و فجور عام ہوجاوے تو نیک بندوں کی موجودگی انہیں ان آفات سے بچا نہ سکے گی،کبھی نیک لوگوں کی نیکی بروں کو عذاب سے بچالیتی ہے اور کبھی بروں کی کثرت نیکوں کوعذاب میں گرفتار کردیتی ہے۔

5343 -[5]

وَعَنْ أَبِي عَامِرٍ أَوْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْخَزَّ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ وَلَيَنْزِلَنَّ أَقْوَامٌ إِلَى جَنْبِ عَلَمٍ يَرُوحُ عَلَيْهِمْ بِسَارِحَةٍ لَهُمْ يَأْتِيهِمْ رَجُلٌ لِحَاجَةٍ فَيَقُولُونَ: ارْجِعْ إِلَيْنَا غَدًا فَيُبَيِّتُهُمُ اللَّهُ وَيَضَعُ الْعَلَمَ وَيَمْسَخُ آخَرِينَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ «. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفَى بَعْضِ نُسَخِ» الْمَصَابِيحِ ": «الْحَرَّ» بِالْحَاءِ وَالرَّاءِ الْمُهْمَلَتَيْنِ وَهُوَ تَصْحِيفٌ وَإِنَّمَا هُوَ بِالْخَاءِ وَالزَّايِ الْمُعْجَمَتَيْنِ نَصَّ عَلَيْهِ الْحُمَيْدِيُّ وَابْنُ الْأَثِيرِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.وَفَى كِتَابِ «الْحُمَيْدِيِّ»عَنِ الْبُخَارِيِّ وَكَذَا فِي«شَرحه»للخطابي: «تروح سارحة لَهُم يَأْتِيهم لحَاجَة»

روایت ہے ابو عامر سے یا ابو مالک اشعری سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میری امت میں وہ قومیں ہوں گی جو موٹے پتلے ریشم ۲؎  اور شراب باجوں کو حلال سمجھ لیں گی۳؎ اور کچھ قومیں ایک پہاڑی کے برابر اتریں گی جب ان پر ان کے جانور آئیں گے۴؎  ان کے پاس ایک شخص کسی کام کے لیے آئے گا وہ کہیں گے ہمارے پاس کل لوٹ کر آنا ۵؎ پھر اﷲ انہیں رات میں ہلاک کردے گا اور پہاڑگرادے گا۶؎  اور دوسروں کو بندر سؤروں میں مسخ کردے گا۷؎ قیامت کے دن تک ۸؎(بخاری) اور مصابیح کے بعض نسخوں میں ہے حر ہے بے نقطہ ہے اور رے سے ۹؎  یہ غلط ہے وہ خ اور ز نقطہ والے سے ہے،اس کی اسی حدیث میں حمیدی اور ابن اثیر نے تصریح کی اور کتاب حمیدی میں ہے ۱۰؎ بخاری سے اور یوں ہی خطابی نے شرح بخاری میں کہا تروح علیہم سارحۃ لہم یاتیھم لحاجۃ ۱۱؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن