30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5340 -[2] وَعَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ لَا أَدْرِي وَاللَّهِ لَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي وبكم» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے جناب ام العلاء انصاریہ سے ۱؎ فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کی قسم میں نہیں جانتا حالانکہ میں رسول اللہ ہوں کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جاوے گا۲؎(بخاری) |
۱؎ آپ صحابیہ حضرت خارجہ ابن زید ابن ثابت کی والدہ ہیں یعنی زید ابن ثابت کی بیوی،حضور انور کو آپ سے بہت محبت تھی۔
۲؎ یعنی مجھے خبر نہیں کہ دنیا و آخرت میں رب تعالٰی میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا اور تمہارے ساتھ کیا کرے گا۔اس حدیث کے متعلق محدثین کے بہت قول ہیں: حضرت عبداﷲ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اور وہ آیت"وَمَاۤ اَدْرِیۡ مَا یُفْعَلُ بِیۡ وَلَا بِکُمْ" منسوخ ہیں اس آیت سے"لِیَغْفِرَ لَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ"بعض چیزیں قابل نسخ ہوتی ہیں۔(مرقات)فقیر کے نزدیک وہ آیت یہ حدیث منسوخ نہیں،یہاں علم کی نفی نہیں درایت کی نفی ہے۔درایت کہتے ہیں کوئی چیز اپنے قیاس اٹکل اندازے سے معلوم کرنا،علم عام ہے۔مطلب یہ ہے کہ میں باوجودیکہ نبی ہوں اور نبی کی عقل تمام جہان سے زیادہ ہوتی ہے مگر اپنے یا دوسروں کا انجام میں بھی عقل و قیاس سے معلوم نہیں کرسکتا بلکہ مجھے یہ علم وحی الٰہی سے ہے اس لیے اس آیت کے آخر میں ہے "اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ" لہذا یہ حدیث دوسری آیات و احادیث کے خلاف نہیں۔حضور فرماتے ہیں میں اولاد آدم کا سردار ہوں،حمد کا جھنڈا قیامت میں میرے ہاتھ ہوگا،میں گنہگاروں کی شفاعت کروں گا یا کہ حسن و حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں،ابوبکر و عمر جنتی ہیں وغیرہ،حضور تا قیامت ہرجنتی و دوزخی کو جانتے پہچانتے ہیں"وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَہِیۡدًا"۔خیال رہے کہ حضرت ام العلاء نے حضرت عثمان ابن مظعون کی وفات پر فرمایا تھا کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ تم جنتی ہو،اس پر یہ ارشاد عالی ہوا تھا کہ تم محض اپنی عقل سے یہ کیوں کہہ رہی ہو یہ بات تو میں بھی عقل سے نہیں جان سکتا لہذا حدیث واضح ہے۔
|
5341 -[3] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا وَرَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مجھ پر آگ پیش کی گئی ۱؎ تو میں نے اس میں بنی اسرائیل کی ایک عورت کو دیکھا جو اپنی ایک بلی کی وجہ سے عذاب دی جارہی ہے۲؎ جسے اس نے باندھ دیا تھا کہ نہ اسے کھلایا نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی حتی کہ بھوک سے مرگئی۳؎ اور میں نے عمرو ابن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ آگ میں انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا یہ پہلا وہ شخص ہے جس نے سائبہ جانور ایجاد کیے۴؎(مسلم) |
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ واقعہ شبِ معراج کا ہے جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے جنت دوزخ کی سیر فرمائی اور ہر جگہ کے لوگ ملاحظہ کیے، ممکن ہے کہ کسی خواب کا واقعہ ہو مگر پہلا احتمال قوی ہے۔
۲؎ یہ عورت بنی اسرائیل کی مؤمنہ تھی کافرہ نہ تھی اسے اس گناہ کی وجہ سے یہ عذاب ہورہا تھا۔(مرقات)معلوم ہوا کہ مؤمن کو بھی بعض گناہوں کی وجہ سے عذاب ہوجاوے گا۔حدیث شریف میں ہے کہ چغل خور اور پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنے والے کو عذاب قبر ہوگا۔
۳؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ جانوروں پر ظلم بھی عذاب کا باعث ہے ان کا حق بھی ضرور ادا کرنا چاہیے،تو جو انسان خصوصًا مسلمان پر ظلم کریں وہ کیسی سزا کے مستحق ہوں گے۔دوسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نگاہ آئندہ واقعات کو بھی دیکھتی ہے۔مجرموں کا دوزخ میں جانا قیامت کے بعد ہوگا مگر حضور انور نے آج ہی ملاحظہ فرمالیا۔حضور نے اس رات جنت میں جاتے ہوئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع