30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یہ حدیث ابھی گزری ہوئی حدیث کی شرح ہے اس کا مطلب وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ نیک اعمال کا نور چہرہ پر ظاہر ہوتا ہے، رب تعالٰی فرماتا ہے:"سِیۡمَاہُمْ فِیۡ وُجُوۡہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوۡدِ"۔تجربہ تو یہ ہے کہ خوف خدا عشق جناب مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم دل میں ہو تو چہرہ اور ہی طرح کا ہوجاتا ہے،بعض بزرگوں کے چہرے دیکھ کر کافر مسلمان ہوگئے اور گنہگاروں نے صرف چہرہ دیکھ کر گناہوں سے توبہ کرلی متقی بن گئے آخرت میں تو نیک و بداعمال چہرہ سے ظاہر ہو ہی جائیں گے،کچھ دنیا میں بھی ظہور ہوجاتا ہے،بعض بدکاریوں سے منہ کالا ہوجاتا ہے۔
|
5337 -[24] وَعَن عمر بن الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ كُلَّ مُنَافِقٍ يَتَكَلَّمُ بِالْحِكْمَةِ وَيَعْمَلُ بِالْجَوْرِ»رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» |
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا میں اس امت پر ہر اس منافق سے ڈرتا ہوں جو باتیں حکمت کی کرے گا اور عمل ظلم کے ۱؎ ان تینوں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت فرمایا۔ |
۱؎ یعنی قیامت تک میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جن کے قول اور قسم کے ہوں گے عمل اور طرح کے،قول نہایت ہی اچھے ہوں گے عمل نہایت برے،لوگ ان کی خوش گفتاری سے دھوکا کھا کر ان کے جال میں پھنس جایا کریں گے۔چونکہ ان کے قول و فعل میں مطابقت نہ ہوگی اس لیے انہیں منافق فرمایا یعنی منافق عملی، رب تعالٰی ہمارا علماء و واعظین کو ہم سب کو نیک اعمال کی توفیق دے۔
|
5338 -[25] وَعَن المهاجرِ بنِ حبيبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي لَسْتُ كُلَّ كلامِ الْحَكِيم أتقبَّلُ وَلَكِنِّي أَتَقَبَّلُ هَمَّهُ وَهَوَاهُ فَإِنْ كَانَ هَمُّهُ وَهَوَاهُ فِي طَاعَتِي جَعَلْتُ صَمْتَهُ حَمْدًا لِي وَوَقَارًا وإِنْ لمْ يتكلَّمْ " رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت مہاجر ابن حبیب سے ۱؎ فرماتے ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی فرماتے ہیں کہ میں حکمت والے کا ہر کلام قبول نہیں کرتا لیکن میں اس کا ارادہ اس کی خواہش قبول کرتا ہوں ۲؎ تو اگر اس کا ارادہ اور اس کی خواہش میری فرمانبرداری میں ہو تو اس کی خاموشی کو بھی اپنی حمد اور وقار بنا دیتا ہوں اگرچہ کچھ نہ بولے ۳؎(دارمی) |
۱؎ مہاجرابن حبیب غالبًا صحابی ہیں اور یہ حدیث مرسل نہیں مگر آپ کے حالات قطعًا معلوم نہ ہوسکے حتی کہ صاحب مشکوۃ نے آپ کا ذکر نہ کیا اپنی کتاب الاکمال میں۔
۲؎ یعنی ہماری بارگاہ میں الفاظ مقبول نہیں نیت و ارادہ قبول ہے،الفاظ بغیر اخلاص ایسے ہیں جیسے بادام بغیر مغز یا درخت بغیر پھل یعنی محض بیکار۔مولانا فرماتے ہیں ؎
مابروں راننگریم و قال را مادروں رابنگریم و حال را
قال رابگزار مرد حال شو زیر پائے کاملے پامال شو
۳؎ یعنی اخلاص والے کی خاموشی بھی عبادت ہے حمد الٰہی ہے،اس خاموشی سے لوگوں کو فیض پہنچ جاتا ہے،بغیر اخلاص کی گفتگو بھی بیکار ہے۔ہمارے ہاں پنجاب میں ایک بار مولانا یار محمد صاحب بہاولپوری رحمۃ اللہ علیہ نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا کہ آج ہم نے چپ کا وعظ کرناہے یہ کہہ کر خاموش ہوگئے،دس منٹ کے بعد لوگوں میں جوش پھیل گیا،بعض لوگوں کو غشی بے ہوشی طاری ہوگئی، اگر زیادہ دیر یہ سلسلہ جاری رہتا تو خطرہ تھا کہ بعض لوگوں کی موت واقع ہوجائے یہ ہے خاموشی والی عبادت،بعض بزرگ مراقبہ میں فیض دیدیتے ہیں۔غرضکہ
مصرع خموشی معنی وارد کہ در گفتن نمی آید
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع