30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی مؤمن کو اس کی نیکیوں کا فائدہ دنیا میں بھی ملتا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًاوَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ"تقویٰ کی برکت سے ہر آفت سے نجات،رزق میں فراخی،عزت و عظمت سب ملتی ہے مگر یہاں کی چیزوں سے اس کی آخرت کی جزا کم نہیں ہوتی جیسے سرکاری ملازم کا بھتہ تنخواہ میں نہیں کٹتا اور کافر کی دنیاوی تکالیف آخرت کے عذاب کو کم نہیں کرتیں جیسے ملزم کی حوالات کا زمانہ جیل کی مدت میں نہیں کٹتا۔
۲؎ یعنی کافر جو دنیا میں ہو ا، دھوپ، غذا پانی وغیرہ کھاپی لیتا ہے وہ اس کی نیکیوں کے حساب میں آجاتا ہے۔جب آخرت میں پہنچے گا تو اس کا حساب صاف ہوچکا ہوگا وہاں کچھ نہ پائے گا۔مؤمن دنیا میں قانون سے کھاتا پیتا ہے،آخرت میں محبت سے اجر پائے گا۔قانون میں حساب ہے،محبت میں بے حسابی۔ہوٹل میں کھانا حساب سے ملتا ہے دعوت میں بغیر حساب کے کہ ہوٹل قانون کی جگہ،دعوت محبت کا ظہور"یُرْزَقُوۡنَ فِیۡہَا بِغَیۡرِ حِسَابٍ"مؤمن کی دنیاوی تکالیف اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں حتی کہ بیماریاں،فکریں،رزق کی تنگی سب کفارات ہیں"مَنۡ یَّعْمَلْ سُوۡٓءًا یُّجْزَ بِہٖ"کا یہ ہی مطلب ہے۔(مرقات)
|
5160 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. إِلَّا أَنْ عِنْدَ مُسْلِمٍ: «حُفَّتْ» . بَدَلَ «حُجِبَتْ» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ آگ خواہشات سے گھیردی گئی ہے اور جنت تکالیف سے ۱؎ گھیر دی گئی ہے ۲؎ (مسلم،بخاری)مگر مسلم کے نزدیک بجائے حجبت کے حفت ہے۔ |
۱؎ یعنی دوزخ خود خطرناک ہے مگر اس کے راستہ میں بہت سے بناوٹی پھول و باغات ہیں۔دنیا کے گناہ،بدکاریاں جو بظاہر بڑی خوشنما ہیں یہ دوزخ کا راستہ ہی تو ہیں۔
۲؎ یعنی جنت بڑا بار دار باغ ہے مگر اس کا راستہ خار دار ہے جسے طے کرنا نفس پر گراں ہے۔نماز،روزہ،حج،زکوۃ،جہاد،شہادت جنت کا راستہ ہی تو ہیں۔طاعات پر ہمیشگی،شہوت سے علیحدگی واقعی مشقت کی چیزیں ہیں۔خیال رہے کہ یہاں شہوات سے مراد حرام خواہشیں ہیں جیسے شراب،زنا،سرود،حرام کھیل،تماشے اس میں جائز شہوات داخل نہیں اور مکارہ سے مراد عبادات کی اطاعات کی مشقتیں ہیں لہذا اس میں خودکشی و مال برباد کرنا داخل نہیں۔(مرقاۃ)
|
5161 -[7] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ وَعَبْدُ الْخَمِيصَةِ إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ وَإِنْ لَمْ يُعْطَ سَخِطَ تَعِسَ وَانْتَكَسَ وَإِذَا شِيكَ فَلَا انْتُقِشَ. طُوبَى لِعَبْدٍ أَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَشْعَثُ رَأْسُهُ مُغْبَرَّةٌ قَدَمَاهُ إِنْ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ وَإِنْ كَانَ فِي السَّاقَة كَانَ فِي السَّاقَة وَإِن اسْتَأْذَنَ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ وَإِنْ شَفَعَ لَمْ يشفع» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ہلاک ہوجاوے دنیا کا بندہ روپے پیسے کا بندہ اور اعلٰی کپڑوں کا بندہ ۱؎ کہ اگر اسے دیا جاوے تو راضی رہے اور اگر نہ دیا جاوے تو ناراض ہوجاوے۲؎ وہ ہلاک ہوجاوے برباد ہوجاوے اور جب کانٹا لگے تو نہ نکلے ۳؎ خوشخبری ہو اس بندے کو جو الله کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہو،اس کے بال پراگندہ ہوں،اس کے قدم گرد آلود اگر پہرے میں ہو تو پہرے میں رہے اور اگر لشکر کے پیچھے ہو تو پیچھے رہے ۴؎ اگر اجازت مانگے تو اجازت نہ دی جاوے اور اگر سفارش کرے تو قبول نہ کی جاوے۵؎ (بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع