30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی اپنے گھر میں مصلے پر نوافل نماز یا ورد وظیفہ پڑھ رہا تھا کیونکہ حضرات صحابہ فرض نمازیں مسجد میں جماعت سے پڑھا کرتے تھے۔گھر کا ذکر اس لیے فرمایا تاکہ معلوم ہو کہ میں ریا کاری کے لیے یہ عمل نہ کررہا تھا ورنہ لوگوں کے مجمع میں کرتا گھر کے گوشہ میں نہ کرتا۔
۲؎ اور اس آنے والے نے مجھے مصلے پر یہ عمل کرتے دیکھا۔آگیا فرما کر یہ بتایا کہ میں نے اسے نہ بلایا تھا نہ اس کا آنا چاہا تھا اتفاقًا ہی آگیا،آنے والا ان کا کوئی ایسا عزیز و قریبی ہوگا جو بغیر اذن مانگے اس کے یا آپ کے گھر والوں نے اسے اجازت دے دی ہوگی۔
۳؎ آپ کو یہ خوشی یا تو اس لیے تھی کہ وہ آنے والا بھی میری طرح یہ اعمال کرے مجھے دیکھ کر تو اس کے اعمال میں مجھے بھی ثواب ملے یا اس لیے کہ وہ مسلمان میرے اس عمل پر بلکہ میرے ایمان و اسلام پر گواہ ہوجاؤے کل قیامت میں بارگاہِ الٰہی میں مسلمانوں بلکہ لوگوں بلکہ اﷲ کی مخلوق کی گواہیاں بہت ہی کام آویں گی۔بہرحال یہ غرور کی خوشی نہ تھی اﷲ کے اس کرم کی خوشی تھی۔
۴؎ یعنی تمہارے اس کام کی ابتداء محض اخلاص پر تھی اسی سے تم گھر کے گوشہ میں یہ کام کررہے تھے اللہ تعالٰی نے تمہارے اس کام کو ظاہر فرمادیا یہ بھی اس کرم ہے۔تمہارا اس پر خوش ہونا کہ مجھے مسلمان نے برے کام پر نہ دیکھا اچھے کام پر دیکھا یہ خوشی بھی اﷲ کا کرم ہے اس پر بھی ثواب ہے کہ یہ خوشی شکر کی ہے نہ کہ فخر کی۔غافل زیادتی مال سے خوش ہوتا ہے مؤمن عاقل توفیق اعمال سے،رب تعالٰی فرماتاہے:"قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡا"۔فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جسے گناہ پر رنج ہو نیکی پر خوشی وہ کامل مؤمن ہے لہذا تمہیں اس خوشی پر ثواب ہے۔(مرقات و اشعہ)بہرحال ریا اور اخلاص کا مدار نیت پر ہے۔
|
5323 -[10] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ يَخْتِلُونَ الدُّنْيَا بِالدِّينِ يَلْبَسُونَ لِلنَّاسِ جُلُودَ الضَّأْنِ مِنَ اللِّينِ أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ السُّكَّرِ وَقُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الذِّئَابِ يَقُولُ اللَّهُ: «أَبِي يَغْتَرُّونَ أَمْ عليَّ يجترؤون؟ فَبِي حَلَفْتُ لَأَبْعَثَنَّ عَلَى أُولَئِكَ مِنْهُمْ فِتْنَةً تدع الْحَلِيم فيهم حيران» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ آخر زمانہ میں کچھ لوگ ظاہر ہوں گے جو دین کے بہانہ سے دنیا کمائیں گے ۱؎ لوگوں کے سامنے بھیڑیوں کی کھال پہنیں گے ۲؎ ان کی زبانیں شکر سے زیادہ میٹھی ہوں گی اور ان کے دل بھیڑیوں کے سے ہوں گے۳؎ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے کہ کیا مجھ سے دھوکا کھاتے ہیں یا مجھ پر جرأت کرتے ہیں۴؎ میں اپنی قسم فرماتا ہوں کہ ان لوگوں پر انہیں سے ایسا فتنہ بھیجوں گا جو بردبارکو حیران کر چھوڑے گا ۵؎(ترمذی) |
۱؎ یختلون بنا ہے ختل سے،باب ضرب کا مضارع ہے ختل کے معنی ہیں دھوکا دینا یا دھوکے سے کچھ حاصل کرنا یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں یعنی دنیا کو دین کے ذریعہ دھوکا دیں گے یا دین کے بہانہ دنیا کمائیں گے،لوگ اسلام کا نام لے کر قرآن کی آڑ میں جبہ و دستار سے فریب دے کر دنیا کماتے ہیں یہ لوگ بدترین خلق ہیں۔حافظ شیرازی کہتے ہیں
حافظامئ خور ورندی کن و خوش باش لے دام تزویر مکن چودگراں قرآن را
یہ بیماری جھوٹے عالموں فریبی فقیروں اور بعض سیاسی رہنماؤں میں بہت زیادہ ہے نام اسلامی جماعت مگر اس بہانہ سے سیاسی غرض رکھنا۔
۲؎ یعنی صرف ان کے کپڑے پہن کر صوفی بنیں گے یا بھیڑ کی کھال۔پہننے سے مراد ہے اپنے کو بہت نرم ظاہر کرنا،گفتار شیریں باتیں نہایت نرم عاجزی تواضع کا اظہار کرنا تاکہ لوگ انہیں تارک الدنیا خدا رسیدہ بزرگ سمجھیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع