30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی دنیا والے اپنے حصہ داروں شریکوں سے راضی و خوش ہوتے ہیں کیونکہ وہ اکیلے اپنا کام نہیں کرسکتے مگر میں شریکوں سے پاک بے نیاز ہوں مجھے کسی شریک کی ضرورت نہیں۔شرکاء سے مراد دنیا کے شریک ہیں جو آپس میں ایک دوسرے کے حصہ دار ہوتے ہیں لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔ بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں روئے سخن مشرکین سے ہے اور معنی یہ ہیں کہ تم لوگوں نے جن چیزوں کو میرا شریک ٹھہرایا ہے میں ان سے بے نیاز بھی ہوں بے زار بھی،بے نیاز کو شریک کی کیا ضرورت ہے۔
۲؎ یعنی جو شخص میری عبادات میں میرے ساتھ میرے بندوں کو بھی راضی کرنا چاہے خالص میرے لیے عبادت نہ کرے تو میں اس پر نظر کرم نہ کروں گا،اس سے فرماؤں گا کہ جاؤ انہیں سے ثواب لو جنہیں راضی کرنے کی تم نے نیت کی تھی۔حضرات صوفیاء فرماتے ہیں کہ عبادت میں جنت حاصل کرنے، دوزخ سے بچنے کی نیت کرنا بھی ایک قسم کا شرک ہے،اللہ کے بندے بنو جنت یا دوزخ کے بندے نہ بنو،اگر اللہ تعالٰی جنت دوزخ پیدا نہ کرتا تو کیا وہ عبادت کا مستحق نہ ہوتا۔
۳؎ یعنی جو شخص دوسروں کی رضا کے لیے ہی عبادت یا میری رضا کے لیے بھی کرے دوسروں کی رضا کے لیے بھی وہ عمل میرے لیے نہیں،انہیں دوسروں کے لیے ہے ان سے ہی ثواب لے۔ خیال رہے کہ عبادات میں اللہ تعالٰی کے ساتھ اس کے رسول کی رضا کی نیت ریا نہیں بلکہ عبادت کا کمال ہے کہ حضور کی رضا اللہ کی رضاء ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ"یہاں اہلِ دنیا مراد ہیں چودھری امیر یا عوام۔
|
5316 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ |
روایت ہے حضرت جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو سنانا چاہے گا اﷲ اسے سنا دے گا اور جو دکھانا چاہے گا اللہ اسے دکھا دے گا ۱؎(مسلم) |
۱؎ یعنی جو کوئی عبادات لوگوں کے دکھلاوے سنانے کے لیے کرے گا تو اللہ تعالٰی دنیا میں یا آخرت میں اس کے عمل لوگوں میں مشہور کردے گا مگر عزت کے ساتھ نہیں بلکہ ذلت کے ساتھ کہ لوگ اس کی عمل سن کر اس پر پھٹکار ہی کریں گے اس کی شرح ابھی کچھ آگے آرہی ہے۔ہم نے دیکھا کہ بعض لوگ اپنے صدقات خیرات شہرت کے لیے اخباروں میں دیواروں پر لکھواتے ہیں، لوگ پڑھ پڑھ کر ان پر لعن طعن کی بوچھاڑ کرتے ہیں کہ اس شہرت کی کیا ضرورت تھی،بعض لوگ شہرت کے لیے اولاد کی شادیوں میں بہت خرچ کرتے ہیں مگر چو طرفہ سے ان پر وہ پھٹکار پڑتی ہے کہ خدا کی پناہ۔اس حدیث کا ظہور آج بھی ہورہاہے۔
|
5317 -[4] وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْخَيْرِ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: يُحِبُّهُ النَّاسُ عَلَيْهِ قَالَ: «تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا گیا کہ فرمایئے تو ایک شخص اچھا کام کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں ۱؎ اور ایک روایت میں ہے کہ اس عمل پر لوگ اس سے محبت کرتے ہیں فرمایا یہ مؤمن کی فوری بشارت ہے ۲؎(مسلم) |
۱؎ آزمائش کرلو کہ جو کام اللہ کے لیے چھپ کر کرو خود بخود اس کا چرچہ ہوجاتا ہے اور لوگ اس کی تعریفیں کرنے لگتے ہیں،لوگ چھپ کر تہجد پڑھتے ہیں مگر ان کے چہرے کا نور ان کا یہ عمل شائع کردیتا ہے۔اشارتًا اس سوال میں یہ صورت بھی داخل ہے سوال یہ ہے کہ یارسول اللہ کیا یہ بھی ریا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع