30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ بلکہ رزق کی تلاش موت کی تلاش سے زیادہ قوی ہے کیونکہ موت عمر ختم ہوجانے پوری ر وزی کھالینے کے بعد آتی ہے مگر رزق ہر وقت آتا رہتا ہے، رب فرماتاہے:"ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیۡکُمْ"۔(مرقات)مقصد یہ ہے کہ موت کو تم تلاش کرو یا نہ کرو۔بہرحال تمہیں پہنچے گی،یوں ہی تم رزق تلاش کرو یا نہ کرو ضرور پہنچے گا،ہاں رزق کی تلاش سنت ہے موت کی تلاش ممنوع مگر ہیں دونوں یقینی۔برادران یوسف علیہ السلام رزق کی تلاش میں مصر گئے گمے ہوئے یوسف کو پالیا۔
|
5313 -[19] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ فَأَدْمَوْهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» . |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں گویا میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھ رہا ہوں ۱؎ کہ آپ نبیوں میں سے ایک نبی کی حکایت فرمارہے ہیں جنہیں ان کی قوم نے مارا ۲؎ تو انہیں خونا خون کردیا وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے تھے۳؎ اورکہتے تھے الٰہی میری قوم کو بخش دے کہ یہ جانتے نہیں ۴؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ ہے تصور رسول حضرات صحابہ کرام حضور کی اداؤں کے تصور میں رہتے تھے ؎
ریاضت نام ہے تیر ی گلی میں آنے جانے کا تصور میں تیرے رہنا عبادت اس کو کہتے ہیں
۲؎ نبی سے مرا د یا نوح علیہ السلام ہیں جو اپنی قوم سے بڑی مصیبت اٹھاتے تھے حتی کہ کئی کئی دن بے ہوش رہتے تھے، ہوش آنے پر پھر جاتے تبلیغ فرماتے یا خود حضور کی ذات ہے، یہ واقعہ طائف کی تبلیغ اور احد شریف کے جہاد کا ہے کہ حضور انور ان ظالم کفار کو دعائیں دیتے جاتے تھے ،چہرہ پا ک سے خون صاف کرتے جاتے تھے ۔(اشعہ)
۳؎ تاکہ خون آنکھوں یا منہ میں نہ پڑے یا زمین پر نہ گرے،زمیں پر گرنے سے عذاب الٰہی آجانے کا اندیشہ تھا۔
۴؎ بخش دے کے معنی یہ ہیں کہ تو انہیں ایمان کی توفیق دے عذاب نہ دے،ورنہ کفار کے لیے بخشش کی دعا بحکم قرآن ممنوع ہے ۔نہ جانتے کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ مجھے پہچانتے نہیں اگر پہچانتے ہوتے تو یہ حرکت نہ کرتے۔ معلو م ہوا کہ جاہل کا گنا ہ ہلکا ہوتا ہے عالم کے گنا ہ سے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع