30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پئے سوئے جاگے کہ یہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی سنتیں ہیں۔حیاۃ الدنیا اور چیز ہے،حیوۃ فی الدنیا اور،حیاۃ للدنیا کچھ اور یعنی دنیا کی زندگی،دنیا میں زندگی،دنیا کے لیے زندگی،جو زندگی دنیا میں ہو مگر آخرت کے لیے ہو دنیا کے لیے نہ ہو وہ مبارک ہے۔مولانا فرماتے ہیں شعر
آب در کشتی ہلاک کشتی است آب اندر زیر کشتی پشتی است
کشتی دریا میں رہے تو نجات ہے اور اگر دریا کشتی میں آجاوے تو ہلاک ہے۔مؤمن کا دل مال و اولاد میں رہنا چاہیے مگر دل میں اﷲ و رسول کے سوا کچھ نہ رہنا ضرو ری ہے۔
|
5157 -[3] وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ.قَالَ:«أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ بِدِرْهَمٍ؟» فَقَالُوا: مَا نحبُّ أَنه لنا بشيءقال: «فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُم» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایک بھیڑ کے مرے بچے پر گزرے تو فرمایا کہ تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ یہ اسے ایک درہم کے عوض ملے؟ ۱؎ صحابہ نے عرض کیا ہم نہیں چاہتے کہ یہ ہمیں کسی بھی چیز کے عوض ملے تو فرمایا اﷲ کی قسم !دنیا اﷲ کو اس سے زیادہ ذلیل ہے جیسی یہ تمہارے نزدیک ۲؎ (مسلم) |
۱؎ یعنی بکری کا مردار بچہ کوئی چار آنے میں بھی نہیں خریدتا کہ اس کی کھال بے کار اور گوشت وغیرہ حرام ہے اسے کون خریدے۔
۲؎ دنیا کے معنی ابھی عرض کردیئے گئے وہ یاد رکھے جاویں۔صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ دنیا دار کو تمام جہان کے مرشد ہدایت نہیں دے سکتے،تارک الدنیا دیندار کو سارے شیاطین مل کر گمراہ نہیں کرسکتے،دنیا دار دینی کام بھی کرتا ہے تو دنیا کے لیے اور دیندار دنیاوی کام بھی کرتا ہے تو دین کے لیے۔
|
5158 -[4] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّنْيَا سِجْنُ المؤمنِ وجنَّةُ الكافرِ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ دنیا مؤمن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ۱؎ (مسلم) |
۱؎ یعنی مؤمن دنیا میں کتنا ہی آرام میں ہو مگر اس کے لیے آخرت کی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا جیل خانہ ہے جس میں وہ دل نہیں لگاتا۔جیل اگرچہ اے کلاس ہو پھر بھی جیل ہے اور کافر خواہ کتنے ہی تکالیف میں ہوں مگر آخرت کے عذاب کے مقابلہ اسکے لیے دنیا باغ اور جنت ہے وہ یہاں دل لگا کر رہتا ہے،لہذا حدیث شریف پر یہ اعتراض نہیں کہ بعض مؤمن دنیا میں آرام سے رہتے ہیں اور بعض کافرتکلیف میں۔ایک روایت میں ہے کہ حضور انور نے فرمایا اے ابو ذر! دنیا مؤمن کی جیل ہے اور قبر اس کے چھٹکارے کی جگہ،جنت اس کے رہنے کا مقام ہے اور دنیا کافر کے لیے جنت ہے،موت اس کی پکڑ کا دن اور دوزخ اس کا ٹھکانا۔(مرقات)
|
5159 -[5] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطَى بِهَا فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلَّهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَة يجزى بهَا» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت انس رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی کسی مؤمن پر کسی نیکی میں ظلم نہیں کرتا ہے اس کا عوض دنیا میں دیا جاتا ہے اور اس کے عوض آخرت میں جزا دیا جاوے گا ۱؎ رہا کافر تو وہ دنیا میں اپنے نیکیوں کے عوض جو وہ کرے کھلا دیا جاتا ہے حتی کہ جب آخرت تک پہنچتا ہے تو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ہوتی جس کی جزا اسے دی جاوے۲؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع