30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶؎ گھڑے اور مشکیزے کا ذکر حصر کے لیے نہیں مثال کے طورپر ہے کہ تمام کھانے پینے کے برتن ڈھک دیئے جائیں اور خالی برتن اوندھے کردیئے جائیں۔
|
4303 -[10] وَعَن ابنِ عبَّاسٍ قَالَ: جَاءَتْ فَأْرَةٌ تَجُرُّ الْفَتِيلَةَ فَأَلْقَتْهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخَمْرَةِ الَّتِي كَانَ قَاعِدًا عَلَيْهَا فَأَحْرَقَتْ مِنْهَا مِثْلَ مَوْضِعِ الدِّرْهَمِ فَقَالَ:«إِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدُلُّ مِثْلَ هَذِهِ عَلَى هَذَا فَيَحْرِقُكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ فرماتے ہیں ایک چوہیا بتی کھینچتی ہوئی آئی اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ڈال دیا اس چٹائی پر جس پر حضور بیٹھے تھے ۱؎ اس سے درہم برابر حصہ جلادیا۲؎ تب حضور نے فرمایا کہ جب تم سونے لگو تو اپنے چراغ بجھادو کیونکہ شیطان ان جیسی چیزوں کی اس کام پر رہبری کرتا ہے پھر تمہیں جلادیتاہے ۳؎(ابوداؤد) |
۱؎ خمرہ بنا ہے خمر سے بمعنی ڈھکنا اور چھپانا،اس سے ہے خمار بمعنی ڈوپٹہ،خمر بمعنی شراب کہ دوپٹہ سر کو اور شراب عقل کو چھپالیتی ہے۔یہاں خمرہ سے مراد چھوٹا مصلے چٹائی کا جس پر ہر ایک آدمی نماز پڑھ سکے، چونکہ وہ مصلے زمین کو چھپالیتا ہے اس لیے اسے خمرہ کہتے ہیں۔حضور انور رات کے وقت اس مصلے پر جلوہ گر تھے کہ یہ واقعہ پیش آیا۔
۲؎ مصلے میں آگ لگتے ہی بجھادی گئی ہوگی صرف اتنی ہی جگہ جل پائی ہوگی ورنہ سارا مصلے جل جاتا۔
۳؎ یعنی ابھی توہم جاگ رہے تھے آگ بجھالی اگر سوتے ہوتے تو مصلیٰ بلکہ سارا گھر جل جاتا اس لیے سوتے وقت چراغ بجھادیا کرو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع