30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چیز ہے۔حد میں رہ کر ہر چیز مفید ہے حد سے بڑھ کر مضر۔ہم بھی حد میں رہیں تو اچھے ورنہ حد سے بڑھ جائیں تو خود اپنے دشمن ہیں۔اللہ تعالیٰ حد میں رکھے۔
۳؎ یہ حکم بطور مشورہ ہے لہذا استحبابی ہے۔
|
4302 -[9] عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكِلَابِ وَنَهِيقَ الْحَمِيرِ مِنَ اللَّيْلِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَإِنَّهُنَّ يَرَيْنَ مَا لَا تَرَوْنَ. وَأَقِلُّوا الْخُرُوجَ إِذَا هَدَأَتِ الْأَرْجُلُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبُثُّ مِنْ خَلْقِهِ فِي لَيْلَتِهِ مَا يَشَاءُ وَأَجِيفُوا الْأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا إِذَا أُجِيفَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَغَطُّوا الْجِرَارَ وَأَكْفِئُوا الْآنِيَةَ وأوكوا الْقرب» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جب تم رات میں کتوں کا یا گدھوں کا رینگنا سنو تو مردود شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو ۱؎ کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھتے ۲؎ اور جب قدم ٹھہر جائیں تو نکلنا کم کرو۳؎ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی رات میں اپنی مخلوق میں سے جسے چاہے پھیلاتا ہے۴؎ اور دروازے بندکرو اور اس پر اللہ کا نام لو کیونکہ شیطان دروازہ نہیں کھولتا جب کہ اسے بند کیا جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے ۵؎ اور گھڑے ڈھک دو برتن اوندھے کردو مشکیزہ باندھ دو ۶؎ (شرح سنہ) |
۱؎ یہاں رات کی قید ہے دوسری روایات میں یہ قید نہیں۔چنانچہ حصن حصین شریف میں ہے کہ جب تم گدھے کا رینگنا سنو تو اعوذ باللہ پڑھو۔ابوداؤد و نسائی حاکم وغیرہ کی روایت میں ہے کہ جب تم کتوں کا رونا سنو تو اعوذباللہ پڑھو۔یہاں رات کی قید یا تو اتفاقی ہے یا اس لیے ہے کہ رات میں یہ آوازیں بہت مکروہ معلوم ہوتی ہیں۔
۲؎ یعنی شیاطین کو دیکھ کر یہ دونوں جانور آوازیں نکالتے چیختے ہیں۔کتوں کا رونا بلاؤں آفتوں کو دیکھ کر ہوتا ہے اور جب مرغ کی آواز سنو تو دعا مانگو کہ وہ فرشتہ کو دیکھ کر بولتا ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ صالحین کے پاس دعا مانگنا یا ان سے تبرک حاصل کرنا مستحب ہے اور بدکاروں کو دیکھ کر اعوذ پڑھنا افضل۔صالحین فاسقین کا دیکھنا آیاتِ الہیہ سے ہے۔(مرقات)
۳؎ یعنی رات گئے جب لوگوں کی آمدورفت بند ہوجائے تم بھی بلاضرورت گھر سے نہ نکلو کہ اس وقت جنات موذی جانور نکلتے ہیں۔
۴؎ یعنی دن بھر زمین میں تم پھیلتے ہوتے ہو رات گئے کوئی اور مخلو ق یہاں پھیلتی ہے جو دن میں چھپی رہتی ہے دن میں تم چلو پھر وہ مخلوق چھپی رہے رات میں تم آرام کرو تاکہ وہ مخلوق چلے پھرے اس کو بھی رب تعالیٰ کی زمین پر چلنے کا حق ہے اگر تم بھی اس وقت عام طور پر چلو پھرو تو اس مخلوق سے خلط ملط ہونے کی وجہ سے تم کو تکلیف پہنچے گی۔
۵؎ جیسے ظاہری قفل انسان سے نہیں ٹوٹتے یوں ہی ذکر اللہ کا قفل شیطان سے نہیں ٹوٹتا اور جیسے بسم اللہ کی برکت سے شیطان کھانا نہیں کھاسکتا ایسے ہی بسم اللہ کی برکت سے صحبت میں شریک نہیں ہوسکتا،یوں ہی بسم اللہ کی برکت سے وہ بند دروازہ نہیں کھول سکتا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع