دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۳؎  یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ اس نے ان شیاطین کو یہ قدرت نہیں دی کہ ان چیزوں کو کھول سکیں جیسے شیطان اس کھانے کو نہیں کھاسکتا جو بسم اللہ پڑھ کر کھایا جائے لہذا حدیث شریف بالکل ظاہر معنی پر ہے اس میں کسی تاویل و توجیہ کی ضرورت نہیں۔

۴؎ یعنی اگر برتن ڈھکنے کے لیے کوئی ڈھکنا نہ ملے تو اس پر اللہ کا نام لے کر لکڑی کھڑی کردو وہ برتن اس لکڑی اور اللہ کے ذکر کی وجہ سے ان بلاؤں سے محفوظ رہے گا۔

۵؎ اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم بطور مشورہ ہے لہذا مستحب ہے واجب نہیں،اس میں بہت ہی منافع اور فوائد ہیں۔

4297 -[4]

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: قَالَ: «لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْعَثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تذْهب فَحْمَة الْعشَاء»

اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ اپنے جانور اور بچے نہ چھوڑو ۱؎  جب کہ سورج ڈوب جائے حتی کہ رات کی سیاہی جاتی رہے ۲؎ کیونکہ جب سورج ڈوب جاتا ہے تو شیاطین چھوڑ دیئے جاتے ہیں حتی کہ رات کی یہ سیاہی جاتی رہے۔

۱؎  فواشی جمع ہے فاشیۃ کی،عربی میں چھوٹے ہوئے جانور کو فاشیہ کہتے ہیں خواہ جنگل میں چھوٹا ہوا ہو یا بستی میں کھلا پھرتا ہو پھر مطلقًا جانوروں کو فواشی کہا جانے لگا وہ ہی یہاں مراد ہے یعنی مغرب و عشاء کے درمیان اپنے جانور اور بچے کھلے نہ پھرنے دو۔

۲؎  یعنی رات کے شروع حصہ کی سیاہی ختم ہوجاوے اور اس کی اصلی سیاہی آجاوے،مغرب عشاء کے درمیان آسمان پر سیاہی ہوتی ہے مگر مغربی کنارہ پر سرخی یا سفیدی ہوتی ہے۔یہاں فحمہ سے یہ ہی سیاہی مراد ہے اور جب عشاء کا وقت آتا ہے تو یہ خالص سیاہی ہر طرف چھا جاتی ہے کسی جگہ سرخی یا سفیدی کا نام نہیں ہوتا لہذا حدیث واضح ہے۔

4298 -[5]

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: قَالَ: «غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ غِطَاءٌ أَوْ سِقَاءٌ لَيْسَ عَلَيْهِ وِكَاءٌ إِلَّا نَزَلَ فِيهِ من ذَلِك الوباء»

اور اس کی ایک روایت میں یوں ہے فرمایا کہ برتن ڈھک دو اور مشکیزے باندھ دو کیونکہ سال میں ایک رات ہے جس میں وبائیں اترتی ہیں ۱؎  نہیں گزرتیں کسی ایسے برتن پر جس پر ڈھکنا نہ ہو مگر اس وباء میں سے اس میں اتر جاتی ہے ۲؎

۱؎ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمومًا ہر رات شیاطین کا پھیلاوا اول شب میں ہوتا ہے اور سال میں ایک رات ایسی بھی آتی ہے جس میں خصوصی بلائیں نازل ہوتی ہیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔ان احادیث میں یہ عمومی بلاؤں کا ذکر تھا جو روزانہ شروع رات میں آتی ہیں اور اس حدیث میں خاص ان بلاؤں کا ذکر ہے جو سال میں ایک رات آتی ہے۔

۲؎  من بیانیہ ہے نہ کہ تبعیضیہ لہذا اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ بلا ان برتنوں میں داخل ہوجاتی ہے جن پر ڈھکنا نہ ہو۔نووی نے فرمایا کہ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ دنیا کی ہر آفت سے بچاؤ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے مسلمان ہر وقت ہر حال میں اللہ کا ذکر کرے،دنیا زہر ہے ذکر اللہ اس کا تریاق۔(مرقات)تر لکڑی آگ میں نہیں جلتی،اللہ کے ذکر سے تر زبان ان شاء الله دوزخ اور آفات کی آگ سے نہ جلے گی۔مؤمن سوتے جاگتے،جیتے،مرتے اللہ کا ذکر کرے ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن