30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶؎ یعنی پانی کے بھرے مشکیزے کا منہ ڈوری سے باندھ دو یوں ہی کھلا نہ چھوڑو۔
۷؎ یہ مجبوری کی حالت میں ہے جب کہ کوئی چیز گھڑا وغیرہ ڈھکنے کے لیے نہ ملے۔اس لکڑی اور بسم اللہ کی برکت سے برتن شیطان کے اثر سے محفوظ رہے گا۔
۸؎ چراغ سے مراد بتی والا چراغ ہے جس کی بتی چوہا وغیرہ کھینچ سکے،لالٹین یا بجلی اس حکم سے خارج ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔بند گھر میں جلتی لالٹین چھوڑنا بھی خطرناک ہے اس سے گیس پھیل جانے کا خطرہ ہوتاہے۔
|
4295 -[2] وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: قَالَ: «خَمِّرُوا الْآنِيَةَ وَأَوْكُوا الْأَسْقِيَةَ وَأَجِيفُوا الْأَبْوَابَ وَاكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْمَسَاءِ فَإِن للجن انتشارا أَو خطْفَة وَأَطْفِئُوا الْمَصَابِيحَ عِنْدَ الرُّقَادِ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا اجْتَرَّتْ الفتيلة فأحرقت أهل الْبَيْت» |
اور بخاری کی روایت میں ہے فرمایا برتن ڈھک دو اور مشکیزوں کو بندھن دے دو اور دروازے بند کردو اور اپنے بچوں کو روک لو شام کے وقت کیونکہ جنات کا پھیلاؤ اور چھین جھپٹ کا وقت ہے ۱؎ اور سوتے وقت چراغوں کو گل کردو کیونکہ بہت بار چوہیا بتی کھینچ لے جاتی ہے تو گھر والوں کو جلا دیتی ہے ۲؎ |
۱؎ یہاں چھین جھپٹ سے مراد ان کو دیوانہ کردینا ان پر مسلط ہوجانا ہے۔ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جن پر جن آجاتے ہیں ان کو پریشان کرتے ہیں دیوانہ بنادیتے ہیں۔جنات کا یہ تصرف قرآن کریم سے ثابت ہے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّ"۔جیسے سانپ بچھو وغیرہ زہریلے جانور انسان کو نقصان پہنچاسکتے ہیں ایسے ہی شیطان بھی نقصان پہنچاسکتے ہیں ،یہ اثرات بھی بالکل حق ہیں۔
۲؎ یہاں فویسقہ سے مراد موذی جانور ہے جو اپنے نفع کے بغیر انسان کا نقصان کردے۔چوہا،چیل،کوّا،بچھو، دیوانہ کتا سب فویسق یعنی موذی ہیں اس لیے ان کو حرم شریف میں بھی اور حالت احرام بھی قتل کرسکتے ہیں۔
|
4296 -[3] وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَحُلُّ سِقَاءً وَلَا يَفْتَحُ بَابًا وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا أنْ يعرضَ على إِنائِه عوداً ويذكرَ اسمَ اللَّهَ فَلْيَفْعَلْ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْت بَيتهمْ» |
اور مسلم کی روایت میں ہے فرمایا برتن ڈھک دو اور مشکیزے باندھ دو ۱؎ دروازے بند کردو اور چراغ بجھادو ۲؎ کیونکہ شیطان مشکیزہ نہیں کھولتا اور نہ دروازہ کھولتا ہے نہ برتن کھولتا ہے۳؎ پھر اگر تم میں سے کوئی نہ پائے مگر یہ کہ اپنے برتن پر لکڑی کھڑی کردے اور اللہ کا نام لے آوے تو یہ ہی کرے۴؎ کیونکہ چوہیا گھر والوں پر ان کا گھر بھڑکا دیتی ہے ۵؎ |
۱؎ یہاں بھی برتنوں سے مراد وہ برتن ہیں جن میں کھانے پینے کی چیزیں ہوں،یوں ہی مشکیزے سے مراد وہ مشکیزے ہیں جن میں پانی یا نبیذ وغیرہ ہوں۔
۲؎ یہاں بھی چراغ سے مراد کھلا چراغ ہے جس کی بتی چوہا کھینچ سکے،موجودہ بجلی کی روشنی اس حکم سے خارج ہے جیساکہ پہلے عرض کیا گیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع