30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے نشہ دے یا نہ دے،خشک نشہ آور چیزیں حد نشہ سے کم حلال ہیں۔یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ حضور انور نے حرمت کو نشہ پر موقوف فرمایا،فتویٰ قول صاحبین پر ہے۔
|
4292 -[7] عَن أبي مَالك الْأَشْعَرِيّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت ابو مالک اشعری سے ۱؎ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے اور اس کا نام کچھ دوسرا رکھ لیں گے ۲؎(ابوداؤد ، ابن ماجہ)۳؎ |
۱؎ آپ کے حالات پہلےگزرچکے کہ آپ کا نام کعب ابن عاصم ہے،کنیت ابو مالک یا ابو عامر ہے،ابو مالک زیادہ مشہور ہے،آپ صحابی ہیں،خلافت فاروقی میں وفات پائی۔
۲؎ یہ غیبی خبر ہے جو ہوبہو درست ہوئی یعنی آخر ی زمانہ میں لوگ شراب کے نام بدل دیں گے اور اسے حلال سمجھ کر پئیں گے حالانکہ وہ نشہ والی ہوگی مثلًا انگور کا پانی یا کھجور کا عرق کہیں گے یا اسے وسکی کہہ کر پئیں گے۔معلوم ہوا کہ نام کا اعتبار نہیں نشہ کا اعتبار ہے۔آج بعض لوگ شراب کو برانڈی یا وسکی کہہ کر پیتے ہیں حالانکہ حرام ہوتی ہے۔شراب کا نام قہوہ بھی ہے مگر مروجہ قہوہ یعنی بے دودھ کی چائے بالکل حلال ہے کہ اس میں نشہ نہیں لہذا حلال ہے،غرضیکہ نام کا اعتبار نہیں کام کا اعتبار ہے۔(مرقات)
۳؎ یہ حدیث احمد،ابن حبان،طبرانی،بیہقی نے بھی روایت فرمائی ان کی روایت میں یہ زیادتی ہے کہ ان میں باجے رنڈیوں کے گانے بہت بڑ ھ جائیں گے،اللہ انہیں زمین میں دھنسادے گا اورانکی صورتیں بندروں سؤروں میں تبدیل فرمادے گا یہ آخر زمانہ میں ہوگا۔(مرقات)
|
4293 -[8] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ قُلْتُ: أَنَشْرَبُ فِي الأبيضِ؟ قَالَ: «لَا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن ابی اوفی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہری ٹھلیا کے نبیذ سے پینے سے منع فرمایا ۱؎ میں نے عرض کیا کہ کیا ہم سفید میں پی لیا کریں فرمایا نہیں ۲؎(بخاری) |
۱؎ مٹی کی ٹھلیا جس میں ہرا روغن کیا گیا ہو،یہ شراب کا خاص برتن تھا،یہ حدیث بھی منسوخ ہے اس کی ناسخ حدیث پہلے گزرگئی۔
۲؎ یعنی اس میں بھی نبیذ نہ بناؤ اور اس کا بنایا ہوا نبیذ ہرگز مت پیو کہ یہ شراب کا برتن ہے،رنگ کا اعتبار نہیں برتن کا اعتبار ہے،یہ حدیث بھی منسوخ ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع