30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4282 -[20] وَعَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوَ الْبَارِدَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا |
روایت ہے زہری سے وہ عروہ سے ۱؎ وہ حضرت عائشہ سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب ترین شربت ٹھنڈا میٹھاتھا۲؎(ترمذی)اور فرمایا صحیح وہ ہے جو بروایت زہری نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلًا مروی ہو۳؎ |
۱؎ امام زہری بھی تابعی ہیں اور عروہ ابن زبیر ابن عوام بھی تابعی ہیں۔ابن شہاب فرماتے ہیں کہ عروہ علم کے دریا ناپیدا کنار ہیں۔(مرقات)
۲؎ یعنی عمومًا ٹھنڈا میٹھا پانی پسند فرماتے تھے،دودھ کی لسی بھی پسندتھی مگر وہ کبھی کبھی ملاحظہ فرماتے تھے لہذا یہ حدیث ان احادیث کی خلاف نہیں جن میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی میں دودھ ملا ہوا پسند تھا یا شہد سے میٹھا کیا ہوا پانی مرغوب تھا کہ وہ خاص حالات کا ذکر ہے اور یہاں عام حالات کا۔
۳؎ اس لیے کہ سفیان ابن عیینہ کے سوا باقی تمام محدثین نے اسے عن الزہری عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم روایت کیا،صرف سفیان ابن عیینہ نے عن عروہ عن عائشہ کی زیادتی کی ہے مگر ثقہ کی زیادتی مقبول ہے،نیز امام احمد نے اور حاکم نے اپنی مستدرک میں اسے بروایت عائشہ صدیقہ روایت فرمایا۔(مرقات)
|
4283 -[21] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ. وَإِذَا سُقِيَ لَبَنًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْء يجزى مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ إِلَّا اللَّبَنُ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو کہے الٰہی ہم کو اس میں برکت دے اور اس سے بھی اچھا ہمیں کھلا ۱؎ اور جب دودھ پئے تو کہے الٰہی ہمیں اس میں برکت دے اور اس سےبھی ز یادہ دے ۲؎ کہ دودھ کے سوا ایسی کوئی چیز نہیں جو کھانے اور پانی سے کفایت کرے۳؎ (ترمذی، ابوداؤد) |
۱؎ یعنی خدایا ہم کو آئندہ ایسا کھانا کھلا جو اس سے بھی زیادہ پاکیزہ اور نفیس و لذیذ ہو کیونکہ کھانے بعض بعض سے اعلیٰ ہوتے ہیں تو ہمیشہ رب تعالیٰ سے اعلیٰ مانگے۔
۲؎ یعنی دودھ پی کر یہ نہ کہے کہ ہم کو اس سے بھی اعلیٰ نعمت دے کیونکہ دودھ سے زیادہ اعلیٰ نعمت کوئی نہیں اور ناممکن کی دعاکرنا ممنوع ہے۔
۳؎ یعنی صرف دودھ ہی میں وہ نعمت ہے جو بھوک و پیاس دونوں کو دفع کرتا ہے لہذا یہ غذا بھی ہے اور پانی بھی،نیز دودھ میں بچے کی پہلی غذا قدرت کی طرف سے مقرر کی گئی کہ بچہ دنیا میں آکر پہلے کئی ماہ بلکہ دو سال تک ماں کا دودھ ہی پیتا ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ فانہ لیس شیئ سے آخر تک مسدد کا قول ہے مگر صحیح یہ ہے کہ یہ بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا فرمان عالی ہے،دوسری حدیث میں اس کی تصریح بھی ہے،جنت میں بھی دودھ کی نہریں ہوں گی۔
|
4284 -[22] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْتَعْذَبُ لَهُ الْمَاءُ مِنَ السُّقْيَا. قِيلَ: هِيَ عَيْنٌ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سقیا سے میٹھا پانی لایا جاتا تھا ۱؎ کہا گیا ہے کہ وہ ایک چشمہ ہے کہ اس کے اور مدینہ کے درمیان دو دن کا راہ ہے ۲؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع