دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

4280 -[18]

وَعَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ وَأَنْ يُنْفَخَ فِي الشَّرَابِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے سے منع فرمایا ۱؎  اور اس سے کہ پانی میں پھونکا جائے ۲؎ (ابوداؤد)

۱؎ خواہ پیالہ کا کنارہ کچھ ٹوٹا ہوا ہو یا پیالہ کے وسط میں سوراخ ہو اس سے پانی وغیرہ مطلقًا منع ہے کہ یہ جگہ منہ سے اچھی طرح نہیں لگتی جس سے پانی وغیرہ بہ کر کپڑوں پر گرتا ہے کچھ منہ میں جاتا ہے کچھ کپڑے تر کرتا ہے،نیز یہ جگہ پھر اچھی طرح صاف بھی نہ ہوسکے گی اور ممکن ہے کہ ٹوٹا ہوا کنارہ ہونٹ کو زخمی کر دے اور زخم کا خون پانی اور برتن کو ناپاک کردے بہرحال اس حکم میں بھی بہت حکمتیں ہیں۔

۲؎ اس حدیث کو احمد اور حاکم نے بھی انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔(دیکھو مرقات)

4281 -[19]

وَعَن كبْشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ مِنْ فِي قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ قَائِمًا فَقُمْتُ إِلَى فِيهَا فَقَطَعْتُهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غريبٌ صَحِيح

روایت ہے حضرت کبشہ سے ۱؎  فرماتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو لٹکے ہوئے مشکیزے سے کھڑے کھڑے پانی پیا ۲؎ میں اس کے دہانے کی طرف اٹھی اسے میں نے کاٹ لیا ۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔

۱؎  کشبہ دو ہیں: ایک کبشہ بنت ثابت ابن منذر انصاریہ ہیں جو حضرت حسان ابن ثابت کی بہن ہیں انہیں کبیشہ بھی کہا جاتا ہے، ان کا لقب برضاء ہے۔دوسری کبشہ بنت کعب ابن مالک انصاریہ یعنی عبداللہ ابن قتادہ کی بیوی،نہ معلوم یہ کون سی کبشہ ہیں۔بعض محدثین نے فرمایا پہلی کبشہ ہیں،بعض نے فرمایا دوسری،چونکہ دونوں کبشہ صحابیہ ہیں اس لیے یہ ناواقفیت مضر نہیں کیونکہ سارے صحابہ عادل ہیں۔(مرقات)

۲؎  اس سے معلوم ہوا کہ مشکیزے سے منہ لگا کر پینا اور کھڑے کھڑے پینا دونوں جائز ہیں۔جہاں ممانعت آئی وہاں ممانعت تنزیہی یا خلاف اولیٰ مراد ہے۔

۳؎  یعنی مشکیزے کے منہ کا چمڑا جسے حضور انور کے لب لگے تھے میں نے کاٹ کر رکھ لیا کیوں،اس کی تین وجہ ہیں: ایک شفاء کے لیے کہ مدینہ کے بیماروں کو اس چمڑہ کو ڈبوکر پانی پلایا کروں،تبرک کے لیے کہ اپنے پاس برکت کے لیے رکھوں اور اس لیے کہ کسی اور کا منہ اسے نہ لگے کہ یہ بے ادبی ہے اسے حضور کا منہ شریف لگا ہے۔(مرقات)ترمذی نے حضرت ام سلیم کایہ ہی واقعہ نقل فرمایا۔اس سے معلوم ہوا کہ جس چیز کو مقبول بندوں کا منہ لگ جائے وہ شفاء بن جاتی ہے۔یوسف علیہ السلام کی قمیص حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھ کی شفا بن گئی۔(دیکھو قرآن مجید)یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگوں کے جسم شریف سے لگی ہوئی چیز سے برکت لینا جائز ہے وہ متبرک ہے۔

4282 -[20]

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوَ الْبَارِدَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا

روایت ہے زہری سے وہ عروہ سے ۱؎  وہ حضرت عائشہ سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب ترین شربت ٹھنڈا میٹھاتھا۲؎(ترمذی)اور فرمایا صحیح وہ ہے جو بروایت زہری نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلًا مروی ہو۳؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن