30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
استعمال کرے جیسے سونے کی تیل دانی سے تیل لگانا پڑ جائے تو اس سے ہتھیلی پر تیل لوٹ لے پھر اسے سر میں مل لے۔ (مرقات و اشعہ)یوں ہی سونے چاندی کی سلائی سے سرمہ لگانا حرام ہے،ہاں علاجًا سونے کی سلائی آنکھ میں پھیرنا حلال کہ یہ علاج ہے نہ کہ استعمال،یوں ہی سونے چاندی وغیرہ کا کشتہ کھانا حلال ہے کہ یہ غذا ہے یا دوا۔
|
4272 -[10] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَلَا الدِّيبَاجَ وَلَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهِيَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ» |
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ نہ پہنو باریک ریشم نہ موٹا ریشم ۱؎ اور نہ پیو سونے چاندی کے برتن میں اور نہ کھاؤ ان کے پیالوں میں کہ یہ کفار کے لیے ہیں دنیا میں اور وہ تمہارے لیے ہیں آخرت میں ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ جس کپڑے کا تانا بانا یا صرف بانا ریشم کا ہو وہ مرد کو پہننا حرام ہے عورت کو حلال اور جس کا تانا ریشم کا ہو بانا سوت کا یا اون کا اس کا پہننا مردکو بھی حلال ہے۔ریشم سے مراد کیڑے کا ریشم ہے،دریائی ریشم یا سن کا ریشم سب کو حلال ہے کہ وہ حریرودیباج نہیں۔
۲؎ یعنی کفار اگر سونے چاندی کے برتنوں میں کھائیں تم انہیں نہ روکو نہ ان سے لڑو مگر ان کی دیکھا دیکھی تم نہ پہنو تمہارے واسطے سونا چاندی جنت میں تیار ہے ان شاءالله خوب استعمال کرنا،اس ممانعت میں لاکھوں حکمتیں ہیں۔اگر مسلمان مردوں نے سونے چاندی کے زیور پہننا شروع کردیئے تو تلوار و بندوق سے جہاد کون کرے گا،مسلمان کا زیور علم اور ہتھیار ہیں۔
|
4273 -[11] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أنسٍ قَالَ: حُلِبَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ دَاجِنٌ وَشِيبَ لَبَنُهَا بِمَاءٍ مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي فِي دَارِ أَنَسٍ فَأُعْطِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ فَشَرِبَ وَعَلَى يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ عُمَرُ: أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ: " الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ وَفِي رِوَايَةٍ: «الْأَيْمَنُونَ الْأَيْمَنُونَ أَلاَ فيَمِّنوا» |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گھریلو بکری دوہی گئی ۱؎ اور اس کا دودھ اس کنویں کے پانی سے ملایا گیا جو حضرت انس کے گھر میں ہے ۲؎ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیالہ پیش کیا گیا آپ نے پیا اور آپ کے بائیں ابوبکر صدیق تھے آپ کے دائیں ایک بدوی۳؎ حضرت عمر نے کہا یارسول اللہ ابوبکر کو دیجئے۴؎ حضور نے اس بدوی کو دیا جو آپ کے داہنے تھا پھر فرمایا داہنا پھر داہنا اور ایک روایت میں ہے کہ داہنے پھر داہنے خبردار داہنے کا خیال رکھو ۵؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ داجن کے معنی ابھی کچھ پہلے عرض کردیئے گئے جو بکری گھر پر چارہ سے پالی جائے وہ داجن ہے جو باہر چر کر آوے وہ شاۃ تو ہے مگر داجن نہیں۔
۲؎ یعنی کچی لسی تیار کی گئی،اس کنویں کا نام اس لیے بتایا گیا تاکہ آئندہ مسلمان اس کنوئیں کا پانی برکت کے لیے پئیں،زائرین مدینہ تمام ان کنوؤں کا پانی پیتے ہیں جن سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا یا غسل کیا ہے بیر عبن،بیرشمس،بیر بضاعہ وغیرہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع