30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4270 -[8] وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ فَسَلَّمَ فَرَدَّ الرَّجُلُ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي شَنَّةٍ وَإِلَّا كَرَعْنَا؟» فَقَالَ: عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ فَانْطَلَقَ إِلَى الْعَرِيشِ فَسَكَبَ فِي قَدَحٍ مَاءً ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعَادَ فَشَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری صاحب کے پاس گئے حضورکے ساتھ آپ کے ایک صحابی بھی تھے ۱؎ آپ نے سلام کیا اس نے جواب دیا وہاں باغ میں پانی پھررہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تیرے پاس پانی مشکیزہ میں ہو تو لاؤ ورنہ ہم منہ سے پی لیں۲؎ وہ بولا میرے پاس مشکیزہ میں باسی پانی ہے چنانچہ وہ چھبر کی طرف گیا ۳؎ پیالہ میں پانی انڈیلا پھر اس پر پالی ہوئی بکری دوہی۴؎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر دوبارہ لایا پھر اس شخص نے پیا جو آپ کے ساتھ آیا تھا ۵؎(بخاری) |
۱؎ وہ صحابی حضرت ابوبکر صدیق تھے اور باغ والے ابوالہیشم تھے یا کوئی اور انصاری۔
۲؎ عربی میں کرع اس طرح پینے کو کہتے ہیں کہ اس میں ہاتھ استعمال نہ ہو یعنی نالی یا نہر سے منہ لگا کر پی لینا۔
۳؎ عریش بنا ہے عرش سے بمعنی بلندی،اصطلاح میں عریش وہ جھونپڑا ہے جو باغ یا کھیت میں گھا س یا تنکوں سے بنایا جائے اس لیے انگور کی بیل پھیلانے کے لیے جو جگہ چھت دی جاتی ہے اسے عریش کہتے ہیں بمعنی معروشات۔قرآن کریم فرماتاہے:"مَّعْرُوْشٰتٍ"۔
۴؎ عربی میں داجن وہ بکری کہلاتی ہے جسے گھر رکھ کر چارا دیا جائے باہر جنگل میں چرنے کے لیے نہ بھیجا جائے۔اس کا مادہ دجن ہے بمعنی الفت و محبت،وہ بکری جانور گھر سے الفت رکھتا ہے مالوف ہوتا ہے اس لیے اسے داجن کہتے ہیں۔
۵؎ یہ باغ والے صاحب ایک بار پانی لائے تو حضور انور نے پیا پھر دوبارہ لائے تو دوسرے صاحب یعنی حضرت ابوبکر صدیق نے پیا۔
|
4271 -[9] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «إِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ فِي آنِية الْفضة وَالذَّهَب» |
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتنوں میں پیتا ہے ۱؎ وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ کھولاتا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ جو چاندی سونے کے برتن میں کھاتا ہے۳؎ |
۱؎ آنیہ جمع ہے اناء کی بمعنی برتن،آنیہ کے معنی ہوئے برتنوں بروزن افعلۃ جمع قِلت ہے۔
۲؎ یجرجر بنا ہے جرجرۃ سے بمعنی شیر کی آواز،اب ہانڈی میں پانی کھولنے کی آواز کو جرجرہ کہتے ہیں یعنی چاندی کے برتنوں میں پینا آگ جہنم پیٹ میں بھرنے کا سبب ہے اس لیے اس طرح فرمایا گیا۔ خیال رہے کہ آگ خود نہیں کھولتی بلکہ پانی کو کھولاتی ہے،یہاں کھولنے ابلنے کی نسبت آگ کی طرف مجازًا ہے جیسے جری النھر۔
۳؎ تمام علماء کا اس میں اتفاق ہے کہ چاندی سونے کے برتن میں کھانا پینا،اس کے چمچے استعمال کرنا،اس کی انگیٹھی میں خوشبو سلگانا،اس کی عطر دانی سے عطر لگانا،اس کے برتن سے وضو یا غسل کرنا،اس کے برتنوں سے چھت یا گھر سجانا،اس کی گھڑی میں وقت دیکھنا،اس کے قلم سے لکھنا،مردوعورت،چھوٹے بڑے سب کو حرام ہے۔عورتوں کو چاندی سونے کے صرف زیور پہننے کی اجازت ہے باقی دیگر استعمال ان کو بھی ویسے ہی حرام ہے جیسے مردوں کو حرام ہے۔بعض لوگوں نے کہا ہے کہ امام شافعی کا قول قدیم یہ تھا کہ سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا مکروہ ہے،داؤد ظاہری کا قول ہے سونے چاندی کے برتنوں میں کچھ پینا حرام ہے ان میں کھانا یا اور طرح استعمال کرنا بالکل درست ہے مگر داؤد ظاہری کا یہ قول باطل ہے۔اس مردود کے نزدیک سؤر کا صرف گوشت حرام ہے اور اس کے کلیجی گردے حلال ہیں،ضرورت میں پھنس جانے پر ان میں سے چیز نکال کر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع