دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

باب الاشربۃ

پینے کی چیزوں کا بیان   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  اشربہ جمع ہے شراب کی جیسے طعام کی جمع ہے اطعمہ،شراب یا بنا ہے شرب سے بمعنی پینا یا شربۃ سے یعنی پانیوں کا بیان یا شربتوں کا بیان۔یہاں پر پتلی پینے والی چیز مراد ہے پانی ہو یا اور چیز چونکہ پانی کھانا کا تتمہ ہے اس لیے اس کا بیان کھانے سے متصل فرمایا اور اس کا صرف باب باندھا۔لباس مستقل علیٰحدہ ہے اس لیے اس کے لیے باقاعدہ کتاب اللباس باندھی۔(اشعہ)

4263 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا. مُتَّفق عَلَيْهِ. وزادَ مسلمُ فِي روايةٍ ويقولُ: «إِنَّه أرْوَى وأبرَأُ وأمرأ»

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پینے میں تین سانس لیتے تھے ۱؎ (مسلم،بخاری) مسلم نے یہ زیادتی کی کہ فرماتے تھے یہ زیادہ سیرکرنے والا زیادہ صحت بخش اور زود ہضم ہے ۲؎

۱؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پانی پیتے میں برتن سے علیٰحدہ منہ کرکے تین سانسیں لیتے تھے۔پہلی سانس پینا شروع کرتے وقت پھر کچھ پی کر سانس لیتے یہ دوسرا سانس شریف ہوا،پھرکچھ پی کر تیسرا سانس لیتے یہ تیسرا سانس ہوا یعنی دوران پینے میں دو سانس لیتے تھے اور کل تین سانس،یہ عمل شریف ہر پینے میں ہوتا تھا خواہ پانی ہو یا دودھ یا شربت یا کوئی اور چیز اور یہ ہی سنت ہے مگر خیال رہے کہ یہ سانسیں برتن سے منہ الگ کرکے ہیں۔

۲؎  اروی بنا ہے روی سے بمعنی سیرابی اس لیے مشکیزہ کو راویہ کہتے ہیں کہ یہ ذریعہ سیری ہے اور ابری بنا ہے برء سے بمعنی دوری صحت کو براءت کہتے ہیں کہ اس میں مرض سے دوری ہوجاتی ہے،ابرا کا معنی زیادہ صحت بخش ہے اور امراء بنا ہے مرالطعام سے بمعنی کھانا ہضم ہوجانا یعنی تین سانسوں میں پینے سے یہ تین فائدے ہیں،ان فوائد کا آج بھی مشاہدہ ہوتا ہے،ایک سانس میں پانی پینے سے زیادہ پیا جاتا ہے۔ایک روایت میں ہے کہ آپ سرکار اول میں بسم اﷲ پڑھتے اور تیسری بار پی کر الحمدﷲ پڑھتے تھے،یہی سنت ہے اور فرماتے تھے کہ ایک سانس میں پانی پیناشیطان کاطریقہ ہے اور اس سے مرض کباد یعنی جگر کی بیماری پیدا ہوتی ہے،یہ حدیث بہت اسنادوں پر مروی ہے اس کی تفصیل یہاں مرقات میں ہے۔

4264 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن الشّرْب من قي السقاء

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ اس ممانعت میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ممکن ہے کہ مشکیزے میں کوئی زہریلا کیڑا ہو جو اس طرح پینے سے منہ کے ذریعہ پیٹ میں چلا جائے،ممکن ہے کہ مشکیزہ کا منہ چوڑا ہو پانی زیادہ گرے کپڑے بھیگ جاویں،نیز پھر مشکیزہ کا پانی استنجے کے قابل نہ رہے کیونکہ پس خوردہ پانی سے استنجا کرنا منع ہے۔جن روایات میں ہے کہ حضور اقدس نے مشکیزے کے منہ سے پانی پیا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن