30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب و هذا الباب خال عن الفصل الاول
باب ۱؎ اور یہ باب پہلی فصل سے خالی ہے ۲؎
۱؎ بعض نسخوں میں ہے باب فی اکل المضطر یعنی مجبورومعذور کے کھانے کا ذکر ہمارے نسخے میں صرف باب ہے بغیر ترجمہ باب کے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس باب میں کھانے کے متعلق مختلف روایات آئیں گی جہاں ترجمہ باب نہیں ہوتا وہاں متفرقات کا بیان ہوتا ہے۔
۲؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں ہے وعن الفصل الثالث یعنی یہ باب پہلی اور تیسری فصل سے خالی ہے مگر صحیح تر نسخہ یہ ہے کہ پہلی فصل سے خالی ہے مگر مؤلف مصابیح کا حال بیان فرمارہے ہیں کہ یہاں پہلی فصل نہیں،رہی تیسری فصل وہ تو مصنف کی اپنی ہوتی ہے لائیں یا نہ لائیں اس کے ذکر کی ضرورت نہیں، چنانچہ برتن ڈھکنے کے باب میں بھی تیسری فصل نہیں مگر اس کا ذکر نہ کیا۔(اشعہ)
|
4261 -[1] عَن الفجيع العامري أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمِيتَةِ؟ قَالَ: «مَا طعامُكم؟» قُلنا: نَغْتَبِقُ وَنَصْطَبِحُ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: فَسَّرَهُ لِي عُقْبَةُ: قَدَحٌ غُدْوَةً وَقَدَحٌ عَشِيَّةً قَالَ: «ذَاكَ وَأَبِي الْجُوعُ» فَأَحَلَّ لَهُمُ الْمَيْتَةَ عَلَى هَذِهِ الحالِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت فجیع عامری سے ۱؎ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا کہ ہمارے لیے مردار سے کیا حلال ہے ۲؎ فرمایا تمہارا کھانا پینا کیا ہے۳؎ ہم نے عرض کیا صبح و شام ایک ایک پیالہ پی لیتے ہیں۴؎ ابو نعیم کہتے ہیں کہ حضرت عقبہ نے مجھ سے اس کی تفسیر کی ایک پیالہ صبح اورایک پیالہ شام فرمایا میرے والد کی قسم یہ تو بالکل بھوک ہے ۵؎ پھر ہمارے لیے اس حالت میں مردار حلال فرمایا ۶؎(ابوداؤد) |
۱؎ فجیع ف کے پیش اور جیم کے فتحہ سے صحابی ہیں،اپنی قوم عامر کی طرف سے کچھ پیغام حضور کی بارگاہ میں لائے اور مسلمان ہوگئے،آپ کے حالات معلوم نہ ہوسکے۔
۲؎ عام نسخوں میں یحل ی کے فتحہ سے جس کے معنی ہیں کہ مردار کی کتنی مقدار ہمارے لیے حلال ہے مگر مقصد یہ ہے کہ کس حالت میں ہم کو مردار کھانے کی اجازت ہے جیساکہ جواب شریف سے ظاہر ہے۔طبرانی کی روایت میں ہے مایحل لناالمیۃ،ی کے پیش ح کے کسرہ سے یعنی کون سی حالت کونسی مجبوری ہمارے لیے مردار کو حلال کرتی ہے۔یہ عبارت بالکل واضح ہے۔
۳؎ یعنی تم کو کس قدر کھانا میسر ہوتاہے تاکہ پتہ لگے کہ تمہیں حالت اضطرار ہے یا نہیں پھر جواب دیا جائے گا۔معلوم ہوا کہ کبھی فتویٰ حالت معین کرکے بھی دیا جاتا ہے مگر عمومًا اگر مگر سے جواب دیا جا تا ہے کہ اگر یہ حالت ہو تو یہ حکم ہو وہ حالت ہو تو یہ حکم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع