30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۱؎ حاکم نے مستدرک میں یہ حدیث نقل کرکے آخر میں فرمایا کہ حضور نے ارشاد کیا کہ اگر تم کو یہ گراں معلوم ہو تو ہر نعمت کھاتے وقت یہ پڑھ لیاکرو بسم الله علیٰ برکت الله اور کھاچکنے پر پڑھا کرو الحمد لله الذی ھو اشبعنا وارادانا وانعم علینا وافضل،یہ کلمات ان نعمتوں کا شکریہ ہیں۔(مرقات)
|
4254 -[12] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ فَلَا يَقُومُ رَجُلٌ حَتَّى تُرْفَعَ الْمَائِدَةُ وَلَا يَرْفَعْ يَدَهُ وَإِنْ شَبِعَ حَتَّى يَفْرُغَ الْقَوْمُ وَلْيُعْذِرْ فَإِنَّ ذَلِكَ يُخْجِلُ جَلِيسَهُ فَيَقْبِضُ يَدَهُ وَعَسَى أَنْ يَكُونَ لَهُ فِي الطَّعَامِ حَاجَةٌ» رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب دسترخوان رکھا جائے تو کوئی شخص نہ اٹھے تاآنکہ دسترخوان اٹھالیا جائے اور نہ اپنا ہاتھ اٹھائے اگرچہ سیر ہوجائے ۱؎ حتی کہ قوم فارغ ہوجائے اور معذرت کردے ۲؎ کیونکہ یہ کام اپنے ساتھی کو شرمندہ کرے گا کہ وہ بھی اپنے ہاتھ سمیٹ لے گا ممکن ہے کہ ابھی اسے کھانے کی ضرورت ہو۳؎(ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ یعنی اگر کوئی شخص جماعت کے ساتھ کھانا کھائے اور خود جلد کھاچکے اور لوگ ابھی کھا رہے ہوں تو نہ تو دسترخوان سے اٹھے نہ کھانے سے ہاتھ سمیٹے بلکہ چھوٹے چھوٹے لقمے کچھ وقفہ سے کھاتا رہے تاکہ دوسرے اپنا پیٹ بھرلیں۔
۲؎ یعنی اگر جانے کی جلدی ہو تو باقی کھانے والے ساتھیوں سے کہہ دے کہ مجھے جلدی ہے میں معذور ہوں آپ حضرات کھاتے رہیں۔میرے مرشد برحق صدرالافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین صاحب مرادآبادی قدس سرہ کا دسترخوان بہت وسیع تھا،حضرت اپنے خادم کے ساتھ کھاتے تھے مگر جلد کھاچکتے تو فرمادیتے کہ تم لوگ کھاتے رہو مجھے کچھ عذر ہے وہ عمل شریف اس حدیث کی تفسیر تھا۔
۳؎ اس جملہ میں اس حکم کی حکمت کا بیان ہے کہ اگر تم دسترخوان سے اٹھ کھڑے ہوئے تو تمہارے ساتھی شرم کی وجہ سے بغیر فراغت ہی اٹھ کھڑے ہوں گے وہ بھوکے رہیں گے اس لیے ان کا لحاظ کرتے ہوئے ابھی ٹھہرو کچھ کھاتے جاؤ۔امام غزالی فرماتے ہیں جو شخص کم خوراک ہو جب وہ جماعت کے ساتھ کھائے تو کچھ دیر بعد کھانا شروع کرے اور چھوٹے چھوٹے لقمے اٹھائے اور دیر دیر سے کھائے مگر کھانا سب کے ساتھ ختم کرے۔(مرقات)
|
4255 -[13] وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ مَعَ قَوْمٍ كَانَ آخِرَهُمْ أَكْلًا. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان» مُرْسلا |
روایت ہے حضرت جعفر ابن محمد سے ۱؎ وہ اپنے والد سے راوی ۲؎ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم کے ساتھ کھاتے تو ان سب میں آخر تک کھاتے۳؎(بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ حضرت جعفر وہ ہی امام جعفر صادق ہیں جن کا دنیا میں شہرہ ہے،ان کے والد امام محمد باقر ہیں جو تابعی ہیں،انہوں نے اپنے والد امام زین العابدین کو بھی پایا ہے اور حضرت جابر ابن عبداللہ کو بھی۔نسب شریف یہ ہے امام جعفر ابن محمد باقر ابن امام زین العابدین ابن امام حسین ابن علی ابن ابی طالب رضوان اللہ علیہم اجمعین۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع