30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4252 -[10] وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: إِنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ قَالَ: «فَلَعَلَّكُمْ تَفْتَرِقُونَ؟» قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: «فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ يُباركْ لكم فِيهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت وحشی ابن حرب سے وہ اپنے والد سے راوی وہ اپنے دادا سے ۱؎ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کھاتے ہیں اور سیرنہیں ہوتے۲؎ فرمایا شاید تم الگ الگ کھاتے ہو عرض کیا ہاں۳؎ فرمایا اپنے کھانے پر جمع ہوجایا کرو اور اللہ کا نام لو تم کو اس میں برکت دی جائے گی ۴؎ (ابوداؤد) |
۱؎ ان کا نام وحشی ابن حرب ابن وحشی ابن حرب ہے،یہ وحشی تابعین سے ہیں اور ان کے دادا وحشی ابن حرب وہ ہی ہیں جنہوں نے زمانہ کفر میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا،پھر زمانہ اسلام میں خلافت صدیقی میں مسیلمہ کذاب کو جہنم رسید کیا یعنی وحشی نے اپنے باپ حرب سے روایت کی اور حرب نے اپنے باپ وحشی سے روایت کی جو کہ ان راوی وحشی کے دادا ہیں،ان وحشی صحابی کے بہت سے بیٹے ہیں یعنی حرب، اسحاق وغیرہم۔(مرقات و اشعہ)
۲؎ یعنی ہم کھاتے زیادہ ہیں اور سیری کم ہوتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہم کو قناعت اور قوۃ علی الطاعۃ نصیب ہو وہ کم میسر ہوتی ہے۔
۳؎ یعنی گھر والے ایک ایک کر کے الگ الگ کھاتے ہیں جمع ہوکر ایک ساتھ نہیں کھاتے۔سبحان الله!یہ ہے مرض کا بیان ہے اور یہ ہے حکیم مطلق کی تشخیص اور پہچان۔
۴؎ یہ ہے ان حکیم مطلق صلی اللہ علیہ وسلم کا علاج فرمانا کہ جمع ہوکر ایک ساتھ کھانے میں برکت ہے۔خیال رہے کہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ"لَیۡسَ عَلَیۡکُمْ جُنَاحٌ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا جَمِیۡعًا اَوْ اَشْتَاتًا"یعنی تم پر گناہ نہیں مل کر کھاؤ یا الگ الگ کیونکہ آیت کریمہ میں الگ الگ کھانے کے جواز کا ذکر ہے اور اس حدیث پاک میں مل کر کھانے کے استحباب کا تذکرہ ہے۔
|
4253 -[11] عَنْ أَبِي عَسِيبٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا فَمَرَّ بِي فَدَعَانِي فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لِصَاحِبِ الْحَائِطِ: «أَطْعِمْنَا بُسْرًا» فَجَاءَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَهُ فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ بَارِدٍ فَشَرِبَ فَقَالَ: «لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ القيامةِ» قَالَ: فَأخذ عمر العذق فَضرب فِيهِ الْأَرْضَ حَتَّى تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُول الله إِنَّا لمسؤولونَ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ خِرْقَةٍ لَفَّ بِهَا الرَّجُلُ عَوْرَتَهُ أَوْ كِسْرَةٍ سَدَّ بِهَا جَوْعَتَهُ أَوْ حُجْرٍ يتدخَّلُ فِيهِ مَنِ الْحَرِّ وَالْقُرِّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان» . مُرْسلا |
روایت ہے حضرت ابو عسیب سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہرتشریف لائے مجھ پرگزرے تو مجھے بلایا میں نکل آیا پھر جناب ابوبکر پر گزرے انہیں بلایا وہ بھی آپ کے پاس آگئے پھر حضرت عمر پرگزرے تو انہیں بلایا وہ بھی نکل آئے تب چلے۲؎ حتی کہ کسی انصاری کے باغ میں داخل ہوئے ۳؎ تو باغ والے سے فرمایا ۴؎ ہم کو کچی کھجوریں کھلاؤ ۵؎ وہ ایک خوشہ لائے اس کو رکھ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے کھایا پھر ٹھنڈا پانی منگایا وہ پیا ۶؎ پھر فرمایا ان نعمتوں کے متعلق تم سے قیامت کے دن سوال ہوگا ۷؎ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے خوشہ لیا اسے زمین پر مارا حتی کہ کھجوریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھڑگئیں پھر عرض کیایارسول اللہ ہم قیامت کے دن اس کے متعلق پوچھے جائیں گے۸؎ فرمایا ہاں بجز تین چیزوں کے ۹؎ وہ چیتھڑا جس سے انسان اپنا ستر لپیٹ لے،وہ ٹکڑا روٹی کا جس سے اپنی بھوک دفع کرے،وہ سوراخ جس میں سردی گرمی سے بہ تکلف داخل ہوجائے ۱۰؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)۱۱؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع