30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۸؎ یہ جملہ دعا ہے یا خبر یعنی تمہارا کھانا خدا کرے ہمیشہ ابرار کھائیں فساق،فجار نہ کھائیں یا خبر ہے،چونکہ حضور انور سید الابرار ہیں اس لیے حضور انور کا کھانا گویا جہان بھر کے ابرار کا کھانا ہے۔یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی فرما سکتے ہیں ہم اپنے کو کس منہ سے ابرارکہیں،خدا تعالیٰ ہم گنہگاروں ناہنجاروں کو ابرار کی غلامی نصیب فرمادے۔
۹؎ یہ بھی دعا ہے یا خبر یعنی خداکرے ہمیشہ تمہارے لیے فرشتے دعائیں کرتے رہیں یا ہمارے کھانے سے فرشتوں نے تمہارے لیے دعائیں کیں۔معلوم ہوا کہ حضور انور کا کسی کا کھانا ملاحظہ فرمانا فرشتوں کی دعا کا ذریعہ ہے۔(مرقات)
۱۰؎ یہ جملہ دعائیہ ہے یعنی خدا کرے تمہارے کھانے سے روزہ دار افطار کیاکریں تمہارا کھانا اس راہ میں خرچ ہوا کرے کیونکہ اس وقت حضور انور کا نہ تو روزہ تھا نہ یہ وقت افطار کا تھا،بعض شارحین نے فرمایا کہ حضور انور کا روزہ تھا جو حضر ت سعد کی خاطر توڑ دیا گیا مگر یہ درست نہیں اس لیے کہ روزہ توڑنے کو افطار نہیں کہتے۔
|
4250 -[8] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِيمَانِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي آخِيَّتِهِ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى آخِيَّتِهِ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْإِيمَانِ فَأَطْعِمُوا طَعَامَكُمُ الْأَتْقِيَاءَ وَأَوْلُوا مَعْرُوفَكُمُ الْمُؤْمِنِينَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي «الْحِلْية» |
روایت ہے حضرت ابو سعید سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ مؤمن اور ایمان کی مثال گھوڑے کی سی ہے اپنی رسی میں جو گھومتا ہے پھر اپنی رسی کی طرف لوٹ آتا ہے ۱؎ اور مؤمن بھول جاتا ہے پھر ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے ۲؎ تو تم اپنا کھانا پرہیزگاروں کو کھلاؤ اور نیکو کار مؤمنوں کو ۳؎(بیہقی شعب الایمان)ابو نعیم فی الحلیۃ |
۱؎ آخیہ اس لمبی رسی کو کہتے ہیں جس کا ایک کنارہ میخ میں بندھا ہوا دوسرا گھوڑا کے پاؤں میں ہو درمیان رسی کو ز مین میں دبادیا ہو،اگر گھوڑا کھل جاوے تو گھوم پھرکر پھر اپنے تھان پر آجاتا ہے اس رسی کو اردو میں تھان کہتے ہیں۔
۲؎ یعنی مؤمن بھی بھول چوک میں گناہ کے آس پاس گھوم آتا ہے پھر رحمت خداوندی دستگیری کرتی ہے اور اپنے ٹھکانے پر آجاتا ہے توبہ کرلیتا ہے۔شعر
تال سوکھ پربھٹ ہوا اور ہنسا کہیں نہ جائیں باندھیں پچھلی پربت کے اور کنکر چن چن کھائیں
خیال رہے کہ جیسا بھاگا ہوا گھوڑا جب واپس آتا ہے تو مالک اسے نکالتا نہیں فورًا باندھ لیتا ہے یوں ہی ہم جیسے بھگوڑے گنہگار بندے جب بارگاہ الٰہی میں توبہ کرتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں تو وہ رب کریم ہم کو فورًا قبول فرمالیتا ہے نکالتا نہیں مگر شرط یہ ہی ہے کہ تعلق اس سے قائم رکھیں۔
۳؎ یعنی کوشش کرو کہ تمہارا کھانا اللہ کے نیک بندے کھائیں تاکہ تم کو نیکی کی طرف رجوع کرنے کی جلد توفیق ملتی رہے۔
|
4251 -[9] عَن عبد الله بنِ بُسر قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ يَحْمِلُهَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ يُقَالُ لَهَا: الْغَرَّاءُ فَلَمَّا أَضْحَوْا وَسَجَدُوا الضُّحَى أُتِيَ بِتِلْكَ الْقَصْعَةِ وَقَدْ ثُرِدَ فِيهَا فَالْتَفُّوا عَلَيْهَا فَلَمَّا كَثُرُوا جَثَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا هَذِهِ الْجِلْسَةُ؟فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا» ثُمَّ قَالَ: «كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا وَدَعُوا ذِرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن بسر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پیالہ تھا جسے چار آدمی اٹھاتے تھے جسے غراء کہا جاتا تھا ۲؎ تو جب چاشت پڑھ لیتے تو یہ پیالہ لایا جاتا تھا اس میں ثرید بنایا ہوا ہوتا تھا۳؎ لوگ اس پر جمع ہوجاتے تھے پھر جب زیادہ ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکڑوں بیٹھ گئے ۴؎ تو ایک بدوی نے کہا یہ بیٹھک کیسی ہے ۵؎ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے کرم والا بندہ بنایا ہے اور مجھے سرکش متکبر نہیں بنایا ۶؎ پھر فرمایا کہ اس کے کناروں سے کھاؤ درمیان کو چھوڑ دو اس میں برکت دی جائے گی ۷؎ (ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع