دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۱۵؎  کہ تم نے ان نعمتوں کا شکریہ ادا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بھوک و پیاس کی حالت میں ایسی نعمتیں عطا فرمائیں۔ لتسئلن مخاطب کے صیغہ سے اشارۃً معلوم ہوا کہ قیامت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حساب نہ لیا جائے گا کہ حضور کا ہر عمل تعلیم و تبلیغ کے لیے تھا آپ کا حساب نہیں بلکہ بلا حساب اجروثواب بے حساب عطا ہوگا صلی اللہ علیہ وسلم۔

۱۶؎  یعنی قیامت میں تم سے سوال یہ ہوگا کہ تم نے ان نعمتوں کا شکریہ ادا کیا یا نہیں اگر کیا تو وہ کیا تھا یا اس کا مطلب یہ ہے کہ تم سے سوال یہ ہوگا کہ ہماری فلاں فلاں نعمتیں تم نے کھائیں یا نہیں۔غرضیکہ سوال توبیخ اور ہے سوال تعداد کچھ اور مرقات نے یہ دوسرے معنی اختیار فرمائے کہ یہ سوال سوال احترام ہوگا ناکہ سوال توبیخ کہ سوال تو بیخ یا کفار سے ہوگا یا غافلوں ناشکروں سے۔

۱۷؎  اس حدیث کا تتمہ بھی عنقریب آرہا ہے تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو الہیثم سے فرمایا کہ جب ہمارے پاس غلام آویں تو تم آنا ہم تم کو ایک غلام عطا فرمائیں گے کچھ روز بعد دو غلام حضور کی بارگاہ میں لائے گئے تب ابو الہیثم حاضر بارگاہ ہوئے حضور انور نے فرمایا ان میں سے ایک لے لو۔عرض کیا حضور آپ ہی انتخاب فرماکر ایک عطا فرمادیں فرمایا لے جاؤ یہ نمازی ہے اس سے برتاؤ اچھا کرنا۔چنانچہ ابوالہیثم اس غلام کو گھر لائے اور اسے آزاد کردیا۔

۱۸؎  یعنی ابو مسعود کی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی ہم نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے اسے باب الولیمۃ میں نقل کیا۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

4247 -[5]

عَن المقدامِ بن معدي كرب سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا مُسْلِمٍ ضَافَ قَوْمًا فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا كَانَ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ نَصْرُهُ حَتَّى يَأْخُذَ لَهُ بِقِرَاهُ مِنْ مَالِهِ وَزَرْعِهِ». رَوَاهُ الدَّارمِيّ وَأَبُو دَاوُد وَفِي رِوَايَة: «وَأَيُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا فَلَمْ يُقْرُوهُ كَانَ لَهُ أَن يعقبهم بِمثل قراه»

روایت ہے حضرت مقدام ابن معدیکرب سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جوکسی قوم کا مہمان ہو پھر مہمان محروم رہے تو ہر مسلمان پر اس کی مدد کرنا لازم ہے ۱؎ یہاں تک کہ وہ اپنی مہمانی اس کے مال اور کھیت سے حاصل کرے۲؎  دارمی اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ جو شخص کسی قوم کا مہمان بنے پھر وہ اس کی مہمان نوازی نہ کرے تو اسے حق ہے کہ اپنی مہمانی کی مقدار لے لے۔

۱؎ اس طرح کہ میزبان اسے مہمان نہ بنا ئے اسے کھانا نہ دے تو اس کے پڑوس کے مسلمان اس میزبان کو سمجھا بجھا کر یا برا بھلا کہہ کر اس سے کھانا دلوادیں۔

۲؎  یعنی اگر سمجھانے بجھانے پربھی میزبان اس مہمان کا حق نہ دے تو دوسرے مسلمان اس مہمان کی مدد کریں کہ وہ میزبان کے مال و کھیت میں سے ایک دن کے کھانے کے بقدر وصول کرے۔اس حدیث کے دو ہی مطلب ہیں جو ابھی کچھ پہلے حضرت عقبہ ابن عامر کی روایت کی شرح میں عرض کیے گئےکہ یہ مہمان سے مراد مسلمان مہمان اور میزبان سے مراد ہے وہ کافر جماعت جس سے اس شرط پر صلح کی گئی تھی کہ ہمارے مسلمان مہمان کو کھانا دیا کریں یا وہ مہمان مراد ہے جو بھوک سے مررہا ہو دوسرے کے پاس کھانا ہو وہ اسے مرتے ہوئے دیکھے اور کھانا نہ دے ایسی مجبوری میں وہ جبرًا اس کے مال سے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن