30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4246 -[4] وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْم وَلَيْلَة فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ: «مَا أَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُوتِكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟» قَالَا: الْجُوعُ قَالَ: «وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا قُومُوا» فَقَامُوا مَعَهُ فَأَتَى رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي بَيْتِهِ فَلَمَّا رَأَتْهُ المرأةُ قَالَت: مرْحَبًا وَأهلا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ فُلَانٌ؟» قَالَتْ: ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ إِذْ جَاءَ الْأَنْصَارِيُّ فَنَظَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا أَحَدٌ الْيَوْمَ أكرمَ أضيافاً مني قَالَ: فانطَلَق فَجَاءَهُمْ بِعِذْقٍ فِيهِ بُسْرٌ وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ فَقَالَ: كُلُوا مِنْ هَذِهِ وَأَخَذَ الْمُدْيَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ» فَذَبَحَ لَهُمْ فَأَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ وَمِنْ ذَلِكَ الْعِذْقِ وَشَرِبُوا فَلَمَّا أَنْ شَبِعُوا وَرَوُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الْجُوعُ ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتَّى أَصَابَكُمْ هَذَا النعيمُ» . رَوَاهُ مُسلم. وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي مَسْعُودٍ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَار فِي «بَاب الْوَلِيمَة» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن یا ایک رات باہر تشریف لائے تو اچانک ابوبکروعمر تھے ۱؎ فرمایا اس گھڑی تم دونوں کو اپنے گھروں سے کس چیز نے نکالا عرض کیا بھوک نے ۲؎ فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے بھی اس نے نکالا جس نے تم کو نکالا۳؎ اٹھو چنانچہ وہ حضور کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۴؎ ایک انصاری صاحب کے ہاں گئے ۵؎ تو وہ اپنے گھر میں نہ تھے جب حضور کو ان کی بیوی نے دیکھا بولیں خوش آمدید اھلًا ۶؎ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فلاں کہاں ہیں ۷؎ بولیں ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں ۸؎ اتنے میں انصاری صاحب آگئے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھا بولے اللہ کا شکر ہے ۹؎ آج مجھ سے بہتر مہمانوں والا کوئی نہیں۱۰؎ پھر وہ چلے تو ان کی خدمت میں ایک بڑا خوشہ لائے جس میں کچے خشک و ترکھجوریں تھیں عرض کیا اس سے کھائیے ۱۱؎ اور چھری لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دودھ والی سے الگ رہنا۱۲؎ پھر انہوں نے ان حضرات کے لیے بکری ذبح کی ان صاحبوں نے بکری اور اس خوشہ سے کھایا پانی پیا ۱۳؎ پھر جب سیر ہوگئے اور پانی سے سیراب ہوئے۱۴؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب ابوبکروعمر سے فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم سے ان نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا قیامت کے دن۱۵؎ کہ تم کو تمہارے گھروں سے بھوک نے نکالا پھر تم واپس نہ ہوئے حتی کہ تم کو یہ نعمتیں مل گئیں ۱۶؎(مسلم)۱۷؎ اور حضرت ابو مسعود کی حدیث کان رجل من الانصار باب الولیمۃ میں ذکر کی گئی ۱۸؎ |
۱؎ بعض روایات میں ہے کہ یہ وقت دوپہر کا تھا۔(اشعہ)
۲؎ ان حضرات کا اس وقت اپنے گھروں سے نکل پڑنا نہ تو کسی سے کچھ مانگنے کے لیے تھا نہ کہیں دعوت میں جانے کے لیے بلکہ وجہ یہ تھی کہ سخت بھوک میں کسی عبادت میں دل نہیں لگا کرتا ایسی حالت میں عبادت کرنا ایسے ہی ممنوع ہے جیسے پیشاب پاخانہ کی سخت حاجت میں عبادت مکروہ ہے اس لیے یہ حضرات اپنی عبادات نوافل ترک کرکے دل بہلانے باہر آگئے۔ (مرقات)
۳؎ یعنی ہم بھی اس وقت اس وجہ سے باہر تشریف لائے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اپنی تکلیف کو کسی پر ظاہر کرنا جب کہ ناشکری یا گھبراہٹ کے اظہار یا بے صبری کے لیے نہ ہو جائز ہے۔(مرقات)ان دونوں بزرگوں کا حضور کی خدمت میں بھوک کی شکایات کرنا ایسا ہے جیسے اولاد کا ماں باپ سے بھوک کی شکایت کرنا اور حضور انور کا یہ فرمان ان بزرگوں کی تسکین اور صبر کے لیے ہے یعنی دیکھو ہم کو بھی بھوک ہے مگر صبربھی ہے۔خیال رہے کہ ان حضرات کا اس موقعہ پر کمانے کے لیے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع