30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ اگر صاحب خانہ خود ہی بخوشی روکے تو رک جانے میں حرج نہیں لیکن اس پرتنگی ہو اور مہمان ڈٹا رہے یہ بے غیرتی بھی ہے اور مسلمان کو تنگ کرنا بھی یہ ممنوع ہے۔یہ قوانین آج عیسائیوں نے اختیار کرلیے ہیں، انکے ہاں مہمان پہلے ہی خط لکھ دیتا ہے کہ میں اتنے روز کے لیے آپ کے ہاں آرہا ہوں،پھر جب وہ دن گزر جاتے ہیں اور یہ مہمان کسی وجہ سے ٹھہرتا ہے تو صاحبِ خانہ کو ان زائد دنوں کا بل ادا کرتا ہے۔
|
4245 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّك تبعثنا فتنزل بِقَوْمٍ لَا يُقْرُونَنَا فَمَا تَرَى؟ فَقَالَ لَنَا: «إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا فَانْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حق الضَّيْف الَّذِي يَنْبَغِي لَهُم» |
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا آپ ہم کو بھیجتے ہیں ۱؎ توہم ایسی قوم پراترے ہیں جو ہماری مہمانی نہیں کرتی تو حضور کیا حکم دیتے ہیں۲؎ تب ہم سے فرمایا کہ اگر تم کسی قوم پر اترو پھر وہ تمہارے لیے وہ دیں جو مہمانوں کے لیے مناسب ہے تو قبول کرلو۳؎ اگر نہ کریں تو ان سے مہمان کا وہ حق لے لو جو مہمانوں کو مناسب ہے۴؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ جہاد کے لیے یا کسی جگہ نمائندہ بناکر نمائندگی کرنے کے لیے۔
۲؎ یعنی راستے میں منزل بہ منزل ٹھہرتے ہوئے جاتے ہیں ہم کو کھانے پینے کی بھی ضرورت ہوتی ہے،وہاں کے باشندے بے مروتی کرتے ہوئے ہماری بات بھی نہیں پوچھتے۔
۳؎ ضیف واحد و جمع دونوں کو کہا جاتا ہے،قرآن کریم میں ہے"ضَیۡفِ اِبْرٰہِیۡمَ الْمُکْرَمِیۡنَ"۔
۴؎ یہ فرمان عالی تو اس کافر قوم کے متعلق ہے جن سے مسلمانوں کا معاہدہ ہوتا تھا کہ ہماری فوج کو تمہیں راشن دینا ہوگا،اب اگر وہ یہ وعدہ پورا نہ کریں تو جبرًا پورا کرایا جائے یا حالت مخمصہ کا ذکر ہے جب کہ مسافر بھوک سے مررہا ہو تو جبرًا دوسرے سے مال لےکر بقدرضرورت کھاسکتا ہے،ورنہ دوسرے کا مال بغیر اس کی رضا مندی استعمال کرنا جائز نہیں۔(مرقات)لہذا یہ حدیث اس آیت کریمہ کے خلاف نہیں"یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْبٰطِلِ"نہ ان احادیث کے خلاف ہے جن میں ڈکیتی اور کسی کا مال چھین لینے سے منع فرمایا گیا۔بعض نے فرمایا کہ یہ حکم شروع اسلام میں تھا جب کہ امیروں پر فقیروں کی دستگیری واجب،بعض شارحین نے فرمایا کہ ایک دن کی مہمانی میزبان پر واجب ہے،وہ اس حدیث سے دلیل پکڑتے ہیں مگر جمہور کا یہ قول نہیں اور ان شارحین کایہ استدلال کمزور ہے،اگر مہمانی واجب بھی ہو تو یہ جبرًا اس سے وصول کرنا کیسے درست ہوا،زکوۃ دینا مالداروں پر فرض ہے مگر فقراء کو حق نہیں کہ ان کا مال جبرًا چھین لیں۔
|
4246 -[4] وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْم وَلَيْلَة فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ: «مَا أَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُوتِكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟» قَالَا: الْجُوعُ قَالَ: «وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا قُومُوا» فَقَامُوا مَعَهُ فَأَتَى رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي بَيْتِهِ فَلَمَّا رَأَتْهُ المرأةُ قَالَت: مرْحَبًا وَأهلا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ فُلَانٌ؟» قَالَتْ: ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ إِذْ جَاءَ الْأَنْصَارِيُّ فَنَظَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا أَحَدٌ الْيَوْمَ أكرمَ أضيافاً مني قَالَ: فانطَلَق فَجَاءَهُمْ بِعِذْقٍ فِيهِ بُسْرٌ وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ فَقَالَ: كُلُوا مِنْ هَذِهِ وَأَخَذَ الْمُدْيَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ» فَذَبَحَ لَهُمْ فَأَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ وَمِنْ ذَلِكَ الْعِذْقِ وَشَرِبُوا فَلَمَّا أَنْ شَبِعُوا وَرَوُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الْجُوعُ ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتَّى أَصَابَكُمْ هَذَا النعيمُ» . رَوَاهُ مُسلم. وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي مَسْعُودٍ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَار فِي «بَاب الْوَلِيمَة» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن یا ایک رات باہر تشریف لائے تو اچانک ابوبکروعمر تھے ۱؎ فرمایا اس گھڑی تم دونوں کو اپنے گھروں سے کس چیز نے نکالا عرض کیا بھوک نے ۲؎ فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے بھی اس نے نکالا جس نے تم کو نکالا۳؎ اٹھو چنانچہ وہ حضور کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۴؎ ایک انصاری صاحب کے ہاں گئے ۵؎ تو وہ اپنے گھر میں نہ تھے جب حضور کو ان کی بیوی نے دیکھا بولیں خوش آمدید اھلًا ۶؎ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فلاں کہاں ہیں ۷؎ بولیں ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں ۸؎ اتنے میں انصاری صاحب آگئے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھا بولے اللہ کا شکر ہے ۹؎ آج مجھ سے بہتر مہمانوں والا کوئی نہیں۱۰؎ پھر وہ چلے تو ان کی خدمت میں ایک بڑا خوشہ لائے جس میں کچے خشک و ترکھجوریں تھیں عرض کیا اس سے کھائیے ۱۱؎ اور چھری لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دودھ والی سے الگ رہنا۱۲؎ پھر انہوں نے ان حضرات کے لیے بکری ذبح کی ان صاحبوں نے بکری اور اس خوشہ سے کھایا پانی پیا ۱۳؎ پھر جب سیر ہوگئے اور پانی سے سیراب ہوئے۱۴؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب ابوبکروعمر سے فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم سے ان نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا قیامت کے دن۱۵؎ کہ تم کو تمہارے گھروں سے بھوک نے نکالا پھر تم واپس نہ ہوئے حتی کہ تم کو یہ نعمتیں مل گئیں ۱۶؎(مسلم)۱۷؎ اور حضرت ابو مسعود کی حدیث کان رجل من الانصار باب الولیمۃ میں ذکر کی گئی ۱۸؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع