30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ چڑھو کہ اس کی بے پردگی ہو۔قسم اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے پڑوسی کے حقوق وہ ہی ادا کرسکتا ہے جس پر اللہ رحم فرمائے۔(مرقات)کہا جاتا ہے ہمسایا اور ماں جایا برابر ہونے چاہئیں۔افسوس! مسلمان یہ باتیں بھول گئے۔ قرآن کریم میں پڑوسی کے حقوق کا ذکر فرمایا بہرحال پڑوسی کے حقوق بہت ہیں ان کے ادا کی توفیق رب تعالیٰ سے مانگئے۔
۳؎ خیر سے مراد یا اچھی بات ہے خواہ واجب ہو یا فرض یا سنت یا مستحب یا ہر مباح بات ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ مباح بات بھی زیادہ نہ کرے تاکہ ناجائز بات میں نہ پھنس جائے۔تجربہ ہے کہ زیادہ بولنے سے اکثر ناجائز باتیں منہ سے نکل جاتی ہیں۔مشہور مقولہ ہے کہ جو خاموش رہا وہ سلامت رہا جو سلامت رہا وہ نجات پا گیا۔فی صدی پچانوے گناہ زبان سے ہوتے ہیں اور پانچ فی صدی گناہ دوسرے اعضاء سے۔مطلب یہ ہے کہ مؤمن کامل وہ ہے جو بھلی بات منہ سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔خیال رہے کہ بات ہی ایمان ہے،بات ہی کفر،بات ہی مقبول ہے،بات ہی مردود۔
۴؎ یعنی اپنے ذی رحم قرابتداروں کے حقوق ادا کرے۔ذی رحم وہ عزیز ہے جس کا رشتہ ہم سے نسبی ہو۔محرم وہ ہے جس سے نکا ح کرنا حرام ہو،لہذا داماد محرم ہے ذی رحم نہیں اور چچا زاد بھائی ذی رحم ہے محرم نہیں اور سگا بھائی بھتیجا ذی رحم بھی ہے اور محرم بھی،یہاں ذی رحم عزیز مراد ہیں خواہ محرم ہوں یا نہ ہوں اگرچہ ساس،سسر،بیوی کے حقوق بھی ادا کرنا ضروری ہے مگر ان کو صد رحمی نہیں کہتے۔یہ حدیث،طبرانی،ترمذی جامع صغیر وغیرہ میں اور طریقوں سے وارد ہوئی ہے جس میں علامات ایمان اور بہت چیزیں ارشاد ہوئیں۔
|
4244 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحَرِّجَهُ» |
روایت ہے حضرت ابوشریح کعبی سے ۱؎ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتاہو وہ اپنے مہمان کا احترام کرے ۲؎ اس کی مہمانی ایک دن رات ہے۳؎ اور دعوت تین دن ہے اس کے بعد وہ صدقہ ہے مہمان کو یہ حلال نہیں کہ اس کے پاس ٹھہرا رہے حتی کہ اسے تنگ کردے۴؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ آپ کا نام خویلد ابن عمرو ہے،عدوی ہیں،قبیلہ بنی کعب سے ہیں،فتح مکہ کے دن بنی کعب کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں تھا،مدینہ منورہ میں وفات پائی۔
۲؎ ہمارا مہمان وہ ہے جو ہم سے ملاقات کے لیے باہر سے آئے خواہ اس سے ہماری واقفیت پہلے سے ہو یا نہ ہو۔ جو ہمارے اپنے ہی محلہ یا اپنے شہر میں سے ہم سے ملنے آئے دوچار منٹ کے لیے وہ ملاقاتی ہے مہمان نہیں اس کی خاطر تو کرو مگر اس کی دعوت نہیں ہے اور جو ناواقف شخص اپنے کام کے لیے ہمارے پاس آئے وہ مہمان نہیں جیسے حاکم یا مفتی کے پاس مقدمہ والے یا فتویٰ والے آتے ہیں یہ حاکم کے مہمان نہیں۔
۳؎ حضرت لیث اس کی بناء پر فرماتے ہیں کہ مہمان کو ایک شب کھانا کھلانا واجب ہے اگر نہ کھلائے گا تو گنہگار ہوگا۔جائزہ کے معنی ہیں عطیہ ہدیہ،اس کی جمع ہے جوائز جیسے فاضلہ کی جمع فواضلہ یعنی مہمان کا مضبوط و پختہ حق۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع