30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4239 -[81] وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيِّدُ إِدَامِكُمُ الْمِلْحُ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت انس ابن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تمہارے سالن کا سردار ۱؎ نمک ہے ۲؎(ابن ماجہ) |
۱؎ یہاں سرداری سے مراد کم خرچ ہونا قناعت کا باعث ہوتا ہے۔
۲؎ بعض تارکین دنیا صرف نمک سے روٹی کھالیتے ہیں ان کی دلیل یہ ہی حدیث پاک ہے۔مقصد یہ ہے کہ اگرچہ کھجور،شکر، گھی سے بھی روٹی کھائی جاسکتی ہے مگر نمک سے روٹی کھانامفید بھی ہے آسان بھی کہ نمک آسانی سے میسر ہوجاتا ہے۔خیال رہے کہ بعض لحاظ سے گوشت سالنوں کا سردار ہے،بعض لحاظ سے سرکہ اور بعض لحاظ سے نمک لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں گوشت یا سرکہ کو سالن کا سردار فرمایا گیا ہے۔جیسے بعض لحاظ سے حضرت فاطمہ تمام عورتوں کی سردار ہیں،بعض لحاظ سے حضرت عائشہ صدیقہ۔ چنانچہ طبرانی نے اوسط میں ابونعیم نے کتاب الطب میں روایت کی کہ دنیا میں سالن کا سردارگوشت ہے،پینے کی چیزوں میں سردار پانی ہے،خوشبوؤں میں سردار قباغیہ ہے۔(مرقات)کھانوں کی لذت نمک سے وابستہ ہے۔ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ تعجب ہے کہ زعفران مثقال سے فروخت ہوتا ہے اور نمک احمال (ڈھیروں) سے حالانکہ زعفران سے نمک اعلیٰ ہے۔
|
4240 -[82] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ فَاخْلَعُوا نِعَالَكُمْ فإِنَّه أرْوَحُ لأقدامكم» |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب کھانا رکھا جائے تو اپنے جوتے اتار دو کہ یہ تمہارے قدموں کی راحت کا باعث ہے ۱؎ |
۱؎ یعنی جب تمہارے سامنے کھانے کے لیے کھانا رکھا جائے توجوتے اتار دو جوتا پہن کر کھانا نہ کھاؤ ننگے پاؤں کھانا کھانا مفید بھی ہے اور اس میں کھانے کا ادب بھی۔
|
4241 -[83] وَعَن أسماءَ بنتِ أبي بكرٍ: أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا أَتَيْتُ بِثَرِيدٍ أَمَرَتْ بِهِ فَغُطِّيَ حَتَّى تَذْهَبَ فَوْرَةُ دُخَانِهِ وَتَقُولُ: أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «هُوَ أعظم للبركة» . رَوَاهُمَا الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر سے کہ جب ان کے پاس ثرید لایا جاتا تو اس کے متعلق حکم دیتیں تو ڈھک دیا جاتا حتی کہ اس کے دھوئیں کا جوش جاتا رہتا ۱؎ اور فرماتیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ یہ عمل برکت بڑھانے والا ہے ۲؎(دارمی) |
۱؎ ثرید کے معنی پہلے بیان کیے جاچکے ہیں۔شوربے میں گلائی ہوئی روٹی یعنی آپ بہت گرم کھانا نہ کھاتی تھیں اور کھانا کھول کر پھونکیں مارکر ٹھنڈا نہ کرتی تھیں بلکہ پکنے کے بعد کچھ دیر ڈھکا رہنے دیتیں جب خود ٹھنڈا ہوجاتا تو کھاتی تھیں۔
۲؎ یعنی کھانے کا قدرے ٹھنڈا ہوجانا اور پھونکوں سے ٹھنڈا نہ کرنا برکت کا باعث ہے اس لیے کھانے میں بھی تکلیف نہیں ہوتی،دیلمی شریف میں ہے کہ گرم کھانے میں برکت نہیں۔
|
4242 -[84] وَعَن نُبَيْشَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا تَقُولُ لَهُ الْقَصْعَةُ: أَعْتَقَكَ اللَّهُ مِنَ النَّارِ كَمَا أعتقتَني منَ الشيطانِ ". رَوَاهُ رزين |
روایت ہے حضرت نبیشہ سے فرماتے ہیں ۱؎ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو پیالہ میں کھائے پھر اسے چاٹ لے تو پیالہ اس سے کہتا ہے کہ تجھے الله آگ سے آزاد کرے جیسے تو نے مجھے شیطان سے آزادکرایا ۲؎(رزین) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع