30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۷؎ کہ مونچھوں کے بال ہونٹ کے کنارہ سے آگے تھے۔یہاں ضمیر بجائے متکلم کے غائب ارشاد ہوئی جیسے ہم اپنے کو کہتے ہیں یہ گنہگار حاضر ہے اور ہوسکتا ہے کہ شاربہ کی ضمیر حضرت بلال کی طرف لوٹتی ہو یعنی جناب بلال کی مونچھیں بڑی تھیں۔
۸؎ یعنی یا تو ہم تمہاری مونچھوں کے بڑے بال مسواک پر رکھ کر کاٹ دیں یا تم خود ہی اس طرح ابھی کاٹ لو۔معلوم ہوا کہ حضور انور کو لمبی مونچھیں سخت ناپسند ہیں،ان سے ایسی نفرت ہے کہ گھر جاکر قینچی سے کاٹنے کی اجازت نہ دی بلکہ فرمایا ابھی کاٹ لو یا ہم خود کاٹ دیں،مسلمان اس سے عبرت پکڑیں۔خیال رہے کہ مونچھیں منڈانا بھی منع ہے اوربہت پست کرنا بھی منع بلکہ اتنی کاٹنا کہ ہونٹ کا کنارہ بھی بخوبی کھل جائے۔اخفاء شارب کے یہ معنی ہیں اس سے مونچھیں پانی پیتے وقت پانی میں ڈوبتی نہیں۔(مرقات)اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔
|
4237 -[79] وَعَن حُذيفةَ قَالَ: كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم لَمْ نَضَعْ أَيْدِيَنَا حَتَّى يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ يَدَهُ وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ مَرَّةً طَعَامًا فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّهَا تُدْفَعُ فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لَا يُذْكَرَ اسمُ اللَّهِ عليهِ وإِنَّه جَاءَ بِهَذِهِ الْجَارِيَةِ لِيَسْتَحِلَّ بِهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا فَجَاءَ بِهَذَا الْأَعْرَابِيِّ لِيَسْتَحِلَّ بِهِ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ يَدَهُ فِي يَدِي مَعَ يَدِهَا» . زَادَ فِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ ذَكَرَ اسمَ اللَّهِ وأكَلَ. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جب حضورصلی الله علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں حاضر ہوتے تو اپنا ہاتھ نہ لگاتے حتی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پس رکھتے اپنا ہاتھ ۱؎ ایک بار حضور کے ساتھ کسی کھانے پر حاضر ہوئے تو ایک لڑکی آئی گویا وہ دھکیلی جارہی ہے۲؎ وہ اپنا ہاتھ کھانے میں لگانے لگی۳؎ تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک بدوی آیا گویا دھکیلا جارہا ہے ۴؎ حضور نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان اپنے لیے کھانا حلال کرتا ہے اس سے کہ کھانے پر الله کا نام نہ لیا جائے ۵؎ وہ اسے لایا تاکہ اس کے ذریعہ کھانا حلال کرے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر اس بدوی کو لایا کہ کھانا حلال کرے میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا ۶؎ اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ شیطان کا ہاتھ ان کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے ۷؎ ایک روایت میں ہے کہ پھربسم الله پڑھی اور کھایا ۸؎(مسلم) |
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی بزرگ کے ساتھ دسترخوان پر حاضر ہو تو ان سے پہلے کھانا شرو ع نہ کرے کہ اس میں بے ادبی ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ سارے کھانے والے بالغ ہوں،ان میں ایک بزرگ باقی خدام لیکن اگر کھانے والے میں کوئی ناسمجھ بچہ بھی ہو تو وہ پہلے کھانا شرو ع کرسکتا ہے بلکہ اس کے ہاتھ پہلے دھلائے جائیں اور کھانا کھا چکنے پر اس کے ہاتھ پیچھے دھلائے جائیں کیونکہ بچے آہستہ آہستہ کھاتے ہیں،دیر تک کھاتے ہیں اور کھانا سامنے آنے پر زیادہ صبر نہیں کرسکتے۔ یہ تمام احکام عالمگیری وغیرہ میں مطالعہ کرو۔
۲؎ جاریہ سے مراد لونڈی نہیں بلکہ چھوٹی بچی ہے جو اتنی تیز دوڑتی آرہی تھی جیسےکسی نے اسے اس طرح دھکا دیا ہو،دھکا کھا کر انسان بہت تیزی سے گرتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع