30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5153 -[17] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ:مَا لَكَ إِذَا رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ فَلَمْ تُنْكِرْهُ؟ " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَيُلَقَّى حُجَّتَهُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ خِفْتُ النَّاسَ وَرَجَوْتُكَ«رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي» شُعَبِ الْإِيمَانِ " |
روایت ہے حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے روز اللہ تعالٰی بندے سے پوچھتے ہوئے فرمائے گا تجھے کیا ہوگیا تھا کہ تو برائی کو دیکھتے تھا لیکن اس سے منع نہیں کرتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے حجت سکھادی جائے گی ۱؎ لہذا عرض کرے گا اے رب لوگوں سے ڈرتے ہوئے اور تجھ سے امید رکھتے ہوئے ان تینوں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۲؎ |
۱؎ فیلقی تلقیہ باب تفعیل سے مضارع مجہول کا صیغہ ہے،کسی بات کا دل میں ڈالنا تلقیۃ کہلاتا ہے،رجوت نصر ینصر سے واحد متکلم فعل ماضی کا صیغہ ہے میں نے امید کی۔
۲؎ اس حدیث شریف میں ان لوگوں پر اللہ تعالٰی کی خاص رحمت کے نزول کا ذکر ہے جو برائی سے نفرت کرتے ہیں اور دل سے چاہتے ہیں کہ اس کا قلع قمع کیا جائے لیکن بدمعاشوں کی بدمعاشی ان کے آڑے آتی ہے اور وہ برائی کو دل سے برا سمجھتے ہوئے عملًا اسے ختم نہیں کرسکتے۔قیامت کا دن اتنا ہولناک ہوگا کہ انسان کو جو بات یاد ہوگی وہ بھی بھول جائے گا لیکن برائی سے نفرت کرنے والے لوگوں پر اللہ تعالٰی کی اس قدر رحمت ہوگی کہ وہ خود ان کو جواب سکھادے گا لیکن یہ ان ہی لوگوں کا حصہ ہے جو برائی کے خلاف آواز کسی مجبوری کے تحت بلند نہیں کرسکتے۔
|
5154 -[18] وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ الْمَعْرُوفَ وَالْمُنْكَرَ خَلِيقَتَانِ تُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَمَّا الْمَعْرُوفُ فَيُبَشِّرُ أَصْحَابَهُ وَيُوعِدُهُمُ الْخَيْرَ وَأَمَّا الْمُنْكَرُ فَيَقُولُ: إِلَيْكُمْ إِلَيْكُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُ إِلَّا لُزُومًا «. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيّ فِي» شعب الإِيمان " |
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱؎ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے نیکی اور بدی دونوں قیامت کے روز لوگوں کے لیے کھڑی کی جائیں گی نیکی اپنے کرنے والوں کو خوشخبری سنائے گی اور ان سے بھلائی کا وعدہ کرے گی جب کہ برائی کہے گی کہ دور ہوجاؤ اور ان میں طاقت نہیں ہوگی مگر اس کے ساتھ چمٹنے کی،اسے احمد اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۲؎ |
۱؎ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی عبداللہ بن قیس ہے،آپ مکہ مکرمہ میں مشرف باسلام ہوئے،وہاں سے حبشہ کی طرف ہجرت کی،پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خیبر میں حاضر ہوئے،حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ۲۰ ھ میں آپ کو بصرہ کا حاکم مقرر کیا،چنانچہ آپ نے اہواز کا علاقہ فتح کیا،حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور خلافت میں آپ کوفہ منتقل ہوئے،حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور وہیں ۵۲ھ میں وصال فرمایا۔
۲؎ خلیقتان مخلوقتان(دو پیدا کی ہوئی چیزیں)لزوم کسی چیز کا کسی سے چمٹ جانا لازم ہوجانا۔اس حدیث شریف میں ثواب و عقاب کی حقانیت کو واضح کیا گیا کہ نیکی اور برائی دنیا میں ہی ختم نہیں ہوجائے گی بلکہ قیامت کے دن ان کا بدلہ(اچھا یا برا)ملے گا،نیکی جس طرح دنیا میں قلبی سرور کا باعث ہوتی ہے قیامت کے دن بھی خوشی کا باعث بنے گی اور برائی جس طرح دنیا میں دل کی پریشانی کا سبب ہوتی ہے قیامت کے دن بھی پریشانی کا موجب ہوگی اور یہ بھی بتایا گیا کہ برائی کا مرتکب شخص اس قدر ناپسندیدہ ہوگا کہ خودبھی اسے اپنے آپ سے دور کرے گی لیکن وہ دور نہیں ہوسکے گا۔اس حدیث سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ انسانی اعمال بھی اللہ تعالٰی کی مخلوق ہیں بندہ صرف کسب کرتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع