30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ناپسند کریں گے تو یہ تین قسم کے لوگ نجات پانے والے ہوں گے جب کہ وہ لوگ جو اس برائی کو دورکرنا تو درکنار دل سے بھی برا نہیں جانیں گے وہ گویا ان ظالموں کے ساتھ ظلم میں شریک ہوں گے اوریوں وہ عذاب کے مستحق ہوں گے۔
|
5152 -[16] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلى جبريلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنِ اقْلِبْ مَدِينَةَ كَذَا وَكَذَا بِأَهْلِهَا قَالَ: يارب إِنَّ فِيهِمْ عَبْدَكَ فُلَانًا لَمْ يَعْصِكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ".قَالَ:"فَقَالَ: اقْلِبْهَا عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ فَإِنَّ وَجهه لم يتمعر فِي سَاعَة قطّ " |
روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ ۱؎ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی نے جبرئیل علیہ السلام کی طرف وحی کی فلاں بستی کو اس کے باشندون پر الٹا دو ۲؎ عرض گزار ہوئے کہ اے رب اس میں تو تیرا فلاں بندہ بھی ہے جس نے آنکھ جھپکنے کی دیربھی تیری نافرمانی نہیں کی فرمایا کہ اس پر اور دوسرے سب پر الٹا دو کیونکہ میری خاطر اس کا چہرہ ایک ساعت کے لیے بھی متغیر نہیں ہوا تھا۳؎ (بیہقی) |
۱؎ حضرت ابو عبداللہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ انصاری سلمی تھے،آپ معروف صحابہ کرام میں شامل ہیں اور آپ سے مروی روایات بہت زیادہ ہیں،غزوہ بدر اور اس کے بعد اٹھارہ غزوات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی آپ نے چورانوے سال کی عمر میں ۷۴ھ مدینہ طیبہ میں وصال فرمایا،ایک قول کے مطابق مدینہ طیبہ میں سب سے آخر میں فوت ہونے والے صحابی آپ ہی ہیں۔
۲؎ قلب یقلب باب ضرب یضرب سے ہے،اس کا معنی ہے کسی چیز کو الٹ دینا اور پھیر دینا اس سے اقلب امر کا صیغہ ہے۔تمعر یتمعر تمعرا باب تفعل ہے،غصے کی وجہ سے چہرے کا رنگ بدل جانا۔
۳؎ اس حدیث شریف سے واضح ہوتا ہے کہ جہاں اعمال صالحہ سے تعلق اور برائیوں سے اجتناب ضروری ہے وہاں دین و ملت کے خلاف سازشوں اور مسلمانوں پر ظلم و ستم،نیز معاشرتی بگاڑ کی وجہ سے پریشان ہونا بھی ایمان کا تقاضا ہے۔جو لوگ اللہ تعالٰی کی رضا جوئی کی خاطر معاشرتی برائیوں کے ازالے کے لیے کوشاں نہیں رہتے اور عدم طاقت کی صورت میں اس پر پریشان بھی نہیں ہوتے ان کا تقویٰ کس کام کا لہذا اپنی اصلاح اور عبادت خداوندی میں مشغولیت کے ساتھ ساتھ ملک و ملت اور مسلمانان عالم کی زبوں حالی کے خاتمے اور معاشرے کو غیر شریک حرکات و سکنات سے پاک کرنے کے لیے کوشاں رہنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
|
5153 -[17] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ:مَا لَكَ إِذَا رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ فَلَمْ تُنْكِرْهُ؟ " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَيُلَقَّى حُجَّتَهُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ خِفْتُ النَّاسَ وَرَجَوْتُكَ«رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي» شُعَبِ الْإِيمَانِ " |
روایت ہے حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے روز اللہ تعالٰی بندے سے پوچھتے ہوئے فرمائے گا تجھے کیا ہوگیا تھا کہ تو برائی کو دیکھتے تھا لیکن اس سے منع نہیں کرتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے حجت سکھادی جائے گی ۱؎ لہذا عرض کرے گا اے رب لوگوں سے ڈرتے ہوئے اور تجھ سے امید رکھتے ہوئے ان تینوں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۲؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع