30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۹؎ اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ اگر پھل مٹھائی بھی ایک قسم ہو تو ہر شخص اپنے سامنے سے ہی کھائے،اگر چند قسم کی ہو تو جہاں سے جو چاہے اٹھالے مگر پھر بھی درمیان سے نہ کھائے بلکہ دوسرے کناروں سے کھا سکتا ہے۔(مرقات)خیال رہے کہ اگر برتن میں اکیلا آدمی ہی کھارہا ہے تب بھی اپنے سامنے سے ہی کھائے کہ یہ ہی سنت ہے جب کہ ایک ہی کھانا ہو۔
۱۰؎ یہ اس لیے کہ اس وقت رومال موجود نہ تھا بیان جواز کے لئے کہ اسی طرح اعضاء پر اپنے تر ہاتھ خشک کر لینا بھی جائز ہے۔خیال رہے کہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھوئے تو انہیں نہ پونچھے اور جب کھانے کے بعد ہاتھ دھوئے تو پونچھ لے اس میں بڑی حکمت ہے۔
۱۱؎ یعنی وہ جو ہم نے فرمایا ہے کہ آگ کی پکی چیز کھانے سے وضو کرے وہاں وضو سے مراد ہے یہ ہی ہاتھ دھونا کلی کرنا ہے نہ کہ نماز کا وضو۔
|
4234 -[76] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الْوَعْكُ أَمَرَ بِالْحَسَاءِ فصُنعَ ثمَّ أَمر فَحَسَوْا مِنْهُ وَكَانَ يَقُولُ: «إِنَّهُ لَيَرْتُو فُؤَادُ الحزين ويسرو عَن فؤاد السقيم كَمَا تسروا إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ بِالْمَاءِ عَنْ وَجْهِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے گھر والوں کوجب بخار آتا تو آپ سیرے(لپٹا)کا حکم دیتے وہ تیار کیاجاتا پھر انہیں حکم دیتے تو وہ اس سے پیتے ۱؎ اور فرماتے کہ یہ غمگین کے دل کو قوت دیتا ہے اور بیمار کے دل سے تنگی دور کرتا ہے جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنے چہرے سے پانی کے ذریعہ میل دور کرتی ہے ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ |
۱؎ حسا جاننے کی چیز کو کہتے ہیں،یہ آٹے،گھی،شکر سے تیار کیا جاتا ہے،اتنا پتلا کہ پیا جاسکتا ہے جسے پنجابی میں سیرا کہتے ہیں، اردو میں لپٹا،عربی میں حسا،یہ نہایت لذیذ نرم اور زود ہضم ہوتا ہے بہت طاقت کی چیز ہے یعنی لپٹا سیرا غمگین اور بیمار دونوں کے لیے مفید ہے کہ اس سے غم بھی غلط ہوتا ہے اور دل کی کمزوری گھبراہٹ و تنگی جو بیماری سے پیدا ہوتی ہے جاتی رہتی ہے اب بھی اس کا تجربہ ہوتا ہے۔
|
4235 -[77] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ وَفِيهَا شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ وَالْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وماؤُها شفاءٌ للعينِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ عجوہ جنت سے ہے اور اس میں شفاء ہے زہر سے ۱؎ اورکھمبی من سے ہے اور اس کا پانی شفا ہے آنکھ کی لیے ہے ۲؎(ترمذی)۳؎ |
۱؎ اس کی شرح ہوچکی ہے یہ تاثیر یا تو ہر عجوہ کھجور میں ہے یا مدینہ منورہ کی عجوہ کھجور میں،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔حق یہ ہے کہ عجوہ کھجور جنت میں ملے گی اور اس میں جنت کے پھلوں کی سی برکت ہے،اس سے تکالیف بیماری دور ہوتی ہیں اور تندرستی بحال رہتی ہے۔
۲؎ ا س کی شرح بھی گزرگئی کہ کھمبی جسے سانپ کی چھتری یا بلی کا پاؤں بھی کہتے ہیں جو برسات کے موسم میں بھیگی لکڑی میں چھتری کی طرح نمودار ہوتی ہے یا تو بنی اسرائیل کا من یہ ہی تھا یا من کی طرح یہ بھی اعلیٰ نعمت ہے جو بغیر محنت ہم کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع