30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسرے جرائم کے مقابلے میں اس لحاظ سے منفرد ہے کہ دوسرے گناہوں کی سزا آخرت میں ملے گی جب کہ اس کوتاہی کی سزا دنیا میں بھی ملے گی اور آخرت کا عذاب اس کے علاوہ ہوگا۔(اشعۃ ا للمعات)اس حدیث کی روشنی میں حکمرانوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے کہ وہ اقتدار اور طاقت کے باوجود معاشرے سے برائیوں کا قلع قمع نہیں کرتے حالانکہ یہ ان کا فرض ہے۔
|
5144 -[8] وَعَن أبي ثعلبةَ فِي قَوْلُهُ تَعَالَى:(عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضل إِذا اهْتَدَيْتُمْ)فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " بَلِ ائْتَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ حَتَّى إِذَا رأيتَ شُحّاً مُطاعاً وَهوى مُتَّبَعاً ودينا مُؤْثَرَةً وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ وَرَأَيْتَ أَمْرًا لَا بُدَّ لَكَ مِنْهُ فَعَلَيْكَ نَفْسَكَ وَدَعْ أَمْرَ الْعَوَامِّ فَإِنَّ وَرَاءَكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ فَمَنْ صَبَرَ فِيهِنَّ قَبَضَ عَلَى الْجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ؟ قَالَ: «أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه |
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱؎ نے فرمایا ارشاد باری تعالٰی تم پر اپنی جانوں کو بچانا لازم ہے گمراہ ہونے والا تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا جب کہ تم ہدایت پر ہو کے متعلق فرمایا خدا کی قسم میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو فرمایا تم نیکی کا حکم کرتے رہو اور برے کاموں سے روکتے رہو یہاں تک کہ جب دیکھو کہ بخل کی تابعداری کی جارہی ہے خواہشات کی پیروی ہو رہی ہے دنیا کو ترجیح دی جا رہی ہے ہر ایک اپنی رائے پر نازاں ہو۲؎ اور ایسا معاملہ دیکھو کہ چارہ کار کوئی نہ ہو تو تم پر خودکو بچانا لازم ہے۳؎ اور عوام کو چھوڑ دو کیونکہ پیچھے صبر کے دن ہیں جس نے ان دنوں میں صبر کیا تو گویا چنگاری پکڑی ان دنوں میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے برابر ثواب ہے جو اسی طرح عمل کرتے ہوں،عرض کی گئی کہ یارسول اللہ ان کے پچاس جتنا ؟ فرمایا کہ تمہارے پچاس آدمیوں جتنا ثواب ۴؎ (ترمذی،ابن ماجہ) |
۱؎ حضرت ابو ثعلبہ جرھم بن ناشب خشنی رضی اللہ عنہ اپنی کنیت ابو ثعلبہ کے ساتھ زیادہ مشہور ہیں،بیعت رضوان کے موقع پر آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو آپ کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ لوگ بھی اسلام لے آئے،حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ شام تشریف لے گئے اور ۷۵ھ میں وہی آپ کا انتقال ہوا۔
۲؎ ائتمروا باب افتعال سے جمع مذکر حاضر امر کا صیغہ ہے،تناھوا باب تفاعل سے جمع مذکر حاضر امر کا صیغہ ہے۔مطاعًا باب افعال سے اسم مفعول کا صیغہ،متبعا باب افتعال سے اسم مفعول کا صیغہ ہے،مؤثرۃ تفعیل سے اسم مفعول کا صیغہ۔ اعجاب کا مطلب اپنی رائے پر اترانا اور تکبر کرنا ہے۔
۳؎ اس حدیث شریف میں ان مشکل حالات کا ذکر ہے جن میں آدمی کسی سے نیکی کی بات سننا پسند نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی کے روکنے سے برائی سے رکے گا کیونکہ لالچ،خواہشات نفسانیہ اور خود پسندی جیسی صفات ذمیمہ نے اسے اندھا اور بہرہ کردیا ہوگا،ان حالات میں اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ میں ایسے لوگوں کی مجلس میں جانے کے بعد نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے رنگ میں رنگا جاؤں گا تو اس وقت اپنے ایمان کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیے،چونکہ وہ لوگ کوئی بات سننے کو ہی تیار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع