دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

5142 -[6]

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنكم تقرؤونَ هذهِ الْآيَة: (يَا أيُّها الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ)فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا مُنْكَرًا فَلَمْ يُغَيِّرُوهُ يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ». رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ. وَفِي رِوَايَةِ أبي دَاوُد: «إِذا رَأَوْا الظَّالِم فَم يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ» . وَفِي أُخْرَى لَهُ: «مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي ثُمَّ يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا ثُمَّ لَا يُغَيِّرُونَ إِلَّا يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ» . وَفِي أُخْرَى لَهُ: «مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي هُمْ أَكْثَرُ مِمَّن يعمله»

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱؎ نے فرمایا کہ اے لوگو تم یہ آیت پڑھتے ہو اے ایمان والو! تم اپنی فکر کرو تم پر اپنی جانوں کا بچانا لازم ہے گمراہ ہونے والا تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا جب کہ تم ہدایت پر ہو۲؎ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ لوگ جب کوئی برا کام دیکھیں اور اس سے نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالٰی ان پر اپنا عذاب بھیج دے۳؎روایت کیا اسے ابن ماجہ اور ترمذی نے اور اس کو صحیح کہا اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ اگر ظالم کو دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالٰی ان پر اپنا عذاب بھیج دے۴؎ اور اسی کی دوسری روایت میں ہے کہ جس قوم میں ظلم کیے جاتے ہوں اور لوگ انہیں روکنے پر قدرت رکھتے ہو لیکن نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالٰی ان پر عذاب بھیج دے اور اسی کی ایک روایت میں ہے کہ جس قوم میں گناہ کیے جاتے ہوں اورکرنے والوں سے دوسرے لوگ زیادہ ہوں ۵؎

۱؎ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت غیرمعروف نہیں،آپ سب سے پہلے ایمان لائے،سفر و حضر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،آپ کے فضائل و مناقب پر آیات و احادیث کثیر ہ دلالت کرتی ہیں اور آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے خلیفہ اور مسلمانوں کے پہلے امیر تھے۔

۲؎ قرآن کریم کی آیت "اے ایمان والو ! اپنی فکر کرو اگر تم ہدایت پر رہو گے تو گمراہ ہونے والے تمہارا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے" کے حوالے سے بعض لوگ سمجھتے تھے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ضرورت نہیں بلکہ آدمی کو اپنی اصلاح کرنا چاہیے دوسروں کے گناہ یا کوتاہیاں اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔

۳؎ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس مغالطے کو دورکرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کے حوالے سے بتایا کہ جب لوگ برائی کو دیکھ کر اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو وہ سب عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں۔

۴؎ دوسری روایات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس تبدیلی کا تعلق طاقت سے ہے یعنی برائی کو بدلنے والے لوگ اس بات کی طاقت رکھنے کے باوجود نہ بدلیں تو وہ بھی عذاب کے مستحق ہوں گے۔حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ آیت عام اور مطلق نہیں بلکہ مقید اورخاص ہے یعنی جب لوگ تمہاری بات نہ سنیں تو آپ اپنی اصلاح میں مصروف ہوجاؤ اس صورت میں ان کے گناہ کا تم پر کوئی اثر نہ ہوگا۔حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ بات ہمارے دور سے متعلق نہیں اس وقت لوگ نیکی کی بات سنتے اور قبول کرتے ہیں یہ زمانہ بعد میں آئے گا،بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ "جب تم ہدایت پر ہو" کا مطلب یہ ہے کہ تم برائی سے روکو اور وہ نہ مانیں تو اب عذاب عام نہیں ہوگا بلکہ صرف برائی کے مرتکب لوگوں کو ہوگا۔

5143 -[7]

وَعَن جَرِير بن عبد الله قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:«مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يَعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّروا عَلَيْهِ وَلَا يُغَيِّرُونَ إِلَّا أَصَابَهُمُ اللَّهُ مِنْهُ بِعِقَابٍ قبل أَن يموتو».رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

حضرت جریر ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ ۱؎ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کسی قوم کا کوئی آدمی ان کے درمیان گناہ کرتا ہو اور وہ اسے روکنے کی طاقت رکھتے ہوں لیکن نہ روکیں تو اللہ تعالٰی ان سب پر عذاب بھیجے گا اس سے پہلے کہ وہ مریں۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عمرو ہے اور آپ  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے چالیس دن پہلے اسلام لائے،اس کے بعد کوفہ تشریف لے گئے اور ایک عرصہ دراز کے بعد قرقسیا مقام پر منتقل ہوئے اور    ۵۱ھ؁ میں انتقال فرمایا آپ سے  بےشمار لوگوں نے احادیث روایت کی ہیں۔

۲؎ اس حدیث کا مضمون گزشتہ حدیث کے مطابق ہے اور اس میں اس بات کا اضافہ ہے کہ جس قوم یا جماعت میں کچھ لوگ برائی کے مرتکب ہوں اور وہ قوم ان کو روکنے کی طاقت رکھنے کے باوجود نہ روکے تو وہ بھی عذابِ خداوندی کے مستحق ہوں گے اور یہ عذاب وہ لوگ مرنے سے پہلے دنیا  میں ہی دیکھ لیں گے۔حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ برائی کو بدلنے میں کوتاہی کرنا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن