30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ امر کسی کام کے کرنے کا حکم دینا ہے،حکم دینے والے کو آمر کہا جاتا ہے اور جسے حکم دیا جائے وہ مامور ہوتا ہے،جب کہ جس بات کا حکم دیا جائے اسے مامور بہ کہتے ہیں۔حکم دینے والا عمر کے اعتبار سے یا رتبہ و مقام میں مامور سے بڑا ہوتا ہے،یہاں امر سے حکم کے ساتھ دعوت دینا بھی مراد ہے اور لفظ امر میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص امر بالمعروف کا فریضہ انجام دے وہ اعمال صالحہ،تقویٰ اور پرہیزگاری میں مامور سے اعلیٰ درجہ پر فائز ہونا چاہیے تاہم اگر ایسا نہ بھی ہو تو اس فریضہ کی ادائیگی سے رکنا نہیں چاہیے۔ المعروف معرفت سے بنا ہے باب فعل یفعل سے اسم مفعول کا صیغہ ہے۔ معرفت کا معنی پہچاننا اور معروف وہ شخص،جگہ یا کام جس کی پہچان حاصل ہو،یہاں معروف سے وہ عقائد و اعمال مراد ہیں جو شریعت میں پہچانے جاتے ہیں اور شریعت نے ان کے کرنے کا حکم دیا ہے مثلًا ایمان،نماز روزہ،زکوۃ حج،سچ دیانت وغیرہ۔ معروف کے مقابلے میں منکر کا لفظ آتا ہے اور اس سے مراد وہ امور ہیں جن کی شریعت میں پہچان نہیں یعنی شریعت نے ان کے کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ منع فرمایا۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہوجاتا ہے کہ قرآن پاک میں امت محمدیہ علی صا حبہا الصلوۃ والسلام کو خیر امت(بہترین امت)قرار دینے کے بعد فرمایا:"تَاۡمُرُوۡنَ بِالْمَعْرُوۡفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنۡکَرِ" تم نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہو۔چونکہ امر بالمعروف منصب رسالت ہے اس لیے جو لوگ اس فریضہ کو انجام دیتے ہیں وہ وارثان انبیاء ہونے کا شرف حاصل کرتے ہیں۔
امر بالمعروف ہرشخص پر اس کے منصب کے حوالے سے اور حسب استطاعت واجب ہے اس پر قرآن و سنت ناطق ہے اور اجماع امت بھی ہے،یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرض کفایہ ہے جیسے کہ"وَلْتَکُنۡ مِّنۡکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوۡنَ اِلَی الْخَیۡرِ وَیَاۡمُرُوۡنَ بِالْمَعْرُوۡفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنۡکَرِ"اور تم میں ایک ایسا گروہ ہونا چاہیے جو بھلائی کی دعوت دیں نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں منکم امۃ کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے لیکن بعض اوقات یہ فرض عین ہوجاتا ہے مثلًا کسی جگہ برائی ہو رہی ہو اور ایک آدمی کو اس کا علم ہوکسی دوسرے کو معلوم نہ ہو تو صرف اس پر فرض ہے دوسروں پر نہیں۔نیکی کا حکم دینے والا اپنا فرض ادا کر دے تو بری الذمہ ہوجاتا ہے مخاطب قبول کرے یا نہ۔اگرچہ امر بالمعروف کے لیے ضروری نہیں کہ آمر خود بھی وہ عمل کرے لیکن خود عمل پیرا ہونے کی صورت میں مخاطب پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں جیساکہ ارشاد خداوندی ہے"لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفْعَلُوۡنَ"وہ بات کیوں کہتے ہوجس پر خود عمل نہیں کرتے۔امر بالمعروف حکمرانوں،علماء مشائخ بلکہ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اسے صرف ایک طبقہ تک محدودکردینا صحیح نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اگر ہر شخص اس کو اپنی ذمہ داری سمجھے تو معاشرہ نیکیوں کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
|
5137 -[1] عَن أبي سعيدٍ الخدريِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فبقلبه وَذَلِكَ أَضْعَف الْإِيمَان» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ۱؎ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو تم میں سے برا کام دیکھے ۲؎ تو اسے ہاتھ سے روک دے اگر اس کی طاقت نہیں ۳؎ رکھتا تو زبان سے اگر اس کی بھی نہیں رکھتا تو دل سے۴؎ اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۵؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع