30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ظالموں کے حمایتی لوگ ہیں خصوصًا ان ظالموں کے وکیل یا ان کی ظالمانہ حرکتوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والے،ان کی ضمانت دینے والے،انہیں سزا سے چھڑانے کی کوشش کرنے والے سب ہی ظالم ہیں۔
۳؎ یعنی یہ ظالموں کے حمایتی اسلام کے نور سے نکل گئے یا اسلام کی حقیقت سے خارج ہوگئے کہ حقیقت اسلام یہ ہے کہ لوگ اس کے شر سے سلامت رہیں۔(مرقات)
|
5136 -[14] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: إِنَّ الظَّالِمَ لَا يَضُرُّ إِلَّا نَفْسَهُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: بَلَى وَاللَّهِ حَتَّى الْحُبَارَى لَتَمُوتُ فِي وَكْرِهَا هُزْلًا لِظُلْمِ الظَّالِمِ. رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ انہوں نے ایک شخص کو کہتے سنا کہ ظالم صرف اپنے ذات ہی کو نقصان دیتا ہے ۱؎ تو جناب ابوہریرہ نے فرمایا ہاں الله کی قسم ۲؎ حتی کہ بٹیریں اپنے گھونسلے میں دبلی ہوکر مرجاتی ہیں ظالم کے ظلم کی وجہ سے۳؎ ان چاروں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت فرمایا۔ |
۱؎ وہ شخص بری نیت سے یہ کہہ رہا تھا،قرآن کریم کی اس آیت سے استدلال کررہا تھا"وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیۡہَا"مگر اس کی نیت نہ تھی کہ ظالموں کے حمائیتیوں کی صفائی بیان کرے کہ وہ گنہگار نہیں ہوئے حالانکہ ظلم کی حمایت بھی ظلم ہے،حضرت ابوہریرہ نے اس کی نیت فاسد کو سمجھ لیا۔
۲؎ یعنی ظلم اپنی لپیٹ میں بہت کو لے لیتا ہے،ظالم کے حمایتی ساتھ میں رگڑ جاتے ہیں کہ وہ بھی ظالم ہی ہوتے ہیں،چور کی مدد کرنے والے مجرم ہیں۔
۳؎ یعنی جب ظلم بڑھ جاتے ہیں تو بارش بند ہوجاتی ہے جس سے چڑیاں حتی کہ بٹیریں بھی بھوکی پیاسی مرجاتی ہیں،بٹیر بہت دورجاکر دانہ پانی حاصل کرلیتی ہیں،بعض ایسی جگہ بٹیروں سے آشیانوں میں سبزی ملی ہے جو سبزجنگل سے تیس چالیس میل دور ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ یہ قول درست ہے کہ ظالم اپنے نفس پر ہی ظلم کرتا ہے وہاں اخروی ظلم مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ مظلوم پرظلم نہیں کرتا اپنے پر کرتا ہے۔شعر
پنداشت ستم گر کہ جفا برما کرد برگردن او بماند و برما بگزشت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع