30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خدا کو بندہ کے برابر ماننا بھی شرک ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"ثُمَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ یَعْدِلُوۡنَ"اور فرماتاہے:"اِذْ نُسَوِّیۡکُمۡ بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ"۔اس کی نفیس تحقیق ہمارے رسالہ اسلام کی چار اصولی اصطلاحوں میں مطالعہ فرماؤ۔
|
5132 -[10] وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَبْدٌ أَذْهَبَ آخِرَتَهُ بِدُنْيَا غَيْرِهِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں بدترین درجہ والا قیامت کے دن وہ بندہ ہے جو دوسروں کی دنیا کی خاطر اپنی آخرت برباد کردے ۱؎(ابن ماجہ) |
۱؎ یہ اس طرح کہ دوسرے کو ناجائز طریقہ سے دنیا کما کردے،دنیا اس کی بڑھائے آخرت اپنی برباد کرے جیسا کہ ظالم حکام رعایا پر ظلم کر کے ناجائز ذریعوں سے بادشاہ کے خزانے بھرتے ہیں یا اس طرح کہ کسی دنیادار کی ناجائز تعظیم و توقیر کرکے خود گنہگار ہوا کرے جیساکہ خوشامدی لوگوں کا طریقہ ہے۔
|
5133 -[11] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الدَّوَاوِينُ ثَلَاثَةٌ: دِيوَانٌ لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ. يَقُولُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ (إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ)وَدِيوَانٌ لَا يَتْرُكُهُ اللَّهُ: ظُلْمُ الْعِبَادِ فِيمَا بَيْنَهُمْ حَتَّى يَقْتَصَّ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ وَدِيوَانٌ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ ظُلْمُ الْعِبَادِ فِيمَا بينَهم وبينَ الله فَذَاك إِلَى اللَّهِ فَذَاكَ إِلَى اللَّهِ: إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِن شَاءَ تجَاوز عَنهُ " |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ دفتر تین قسم کے ہیں ۱؎ ایک وہ دفتر جسے الله نہ بخشے گا وہ الله کا شریک ٹھہرانا ہے ۲؎ الله تعالٰی فرماتا ہے کہ الله نہ بخشے گا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جاوے۳؎ اور ایک وہ دفتر ہے جسے الله چھوڑے گا نہیں ۴؎ وہ بندوں کے آپس کے ظلم ہیں حتی کہ بدلہ لے گا ان کے بعض کا بعض سے ۵؎ اور ایک دفتر وہ ہے جس کی الله تعالٰی پرواہ نہیں کرتا وہ بندوں کا اپنے اور الله کے درمیان حق تلفی ہے ۶؎ تو یہ الله کے سپرد ہے اگر چاہے اسے سزا دے اور اگر چاہے تو اس سے درگزر فرما وے ۷؎ |
۱؎ یعنی بندوں کے گناہوں کے دفتر ان کے نامہ اعمال تین طرح کے ہیں۔دیوان کا ترجمہ ہے رسالہ جس کے جمع کرنے سے کتاب بن جاوے،اس کی جمع ہے دواوین۔
۲؎ یہاں بھی شرک سے مراد کفر ہے یعنی جو بندہ کفر کرکے بغیر توبہ مرجاوے وہ بخشا نہ جاوے گا،آخرت کی بخشش مراد ہے،دنیا میں توبہ کرنے سے شرک و کفر وغیرہ سب معاف ہوجاتے ہیں،حضور انور نے تمام مشرکوں کو ہی کلمہ پڑھا کر مسلمان کیا تھا۔
۳؎ اس طرح کفر بھی نہ بخشا جاوے گا،ہوسکتا ہے کہ یہاں شرک سے مراد کفر ہو۔خیال رہے کہ کفار کے دوسرے گناہ معاف بھی ہوسکتے ہیں اور ان کا عذاب ہلکا بھی ہوسکتا ہے جیسے حاتم طائی سخاوت کی وجہ سے،نوشیراں انصاف کی وجہ سے اور ابو طالب حضور کی خدمت کی وجہ سے ہلکے عذاب میں ہیں حتی کہ ابو لہب کو دو شنبہ کے دن عذاب ہلکا کیا جاتا ہےاور اسے انگلی سے پانی ملتا ہے جیساکہ احادیث میں ہے مگر شرک و کفر کی بخشش یا کافر کا جنت میں داخلہ یہ ناممکن ہے۔
۴؎ ان کا حساب مطالبہ ضرور کرے گا نہ بخشنے اور نہ چھوڑنے میں فرق ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع