30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حرام ہے۔چور کے ہاتھ کاٹنا،زانی کو سنگسار کرنا یہ ہے ظلم کی سزا یہ تو اچھی چیز ہے لہذا حدیث واضح ہے۔ظالم کو سزا اور ظالم پر ظلم کرنے کا فرق ابھی عرض کیا گیا۔یہاں اتنا اور سمجھ لو کہ ظالم کو قانون سے زیادہ سزا دینا بھی ظلم ہے اوریہ بھی حرام ہے،اگر چور کے بجائے ایک ہاتھ کے دونوں ہاتھ کاٹ دیئے جاویں یا اسے قتل کردیا جاوے تو یہ ظلم ہے،ظالم پر بھی ظلم کرنا حرام ہے اس کی بھی پکڑ ہے۔
|
5130 -[8] وَعَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنِ اكْتُبِي إِلَيَّ كِتَابًا تُوصِينِي فِيهِ وَلَا تُكْثِرِي. فَكَتَبَتْ: سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول:«من التمَس رضى الله بسخط النَّاس كفاهُ اللَّهُ مؤونة النَّاس وَمن التمس رضى النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ» وَالسَّلَام عَلَيْك. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت معاویہ سے ۱؎ کہ انہوں نے حضرت عائشہ کو لکھا کہ آپ مجھے خط لکھیں جس میں مجھے وصیت کریں اور زیادہ نہ کریں ۲؎ آپ نے انہیں لکھا کہ تم پر سلام ہو بعد اس کے کہتی ہوں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو الله تعالٰی کی خوشنودی لوگوں کی ناراضی سے کفایت کرے گا الله اسے لوگوں کی مصیبت سے بچائے گا۳؎ اور جو کوئی خوشنودی الله کی ناراضی سے تلاش کرے گا۴؎ تو الله اسے لوگوں کے حوالے کردے گا ۵؎ السلام علیک ۶؎(ترمذی) |
۱؎ معاویہ سے مراد حضرت امیر معاویہ بن سفیان ہیں رضی الله عنہما،آپ خود اور آپ کے والد دونوں مشہور صحابی ہیں،شاید آپ نے یہ خط اپنی حکومت کے زمانہ میں اپنے دارالخلافہ دمشق سے ام المؤمنین کی خدمت میں لکھا۔
۲؎ یعنی جامعہ نصیحت فرمادیں کیونکہ آپ اہلِ بیت نبوت سے ہیں کلمات جامعہ آپ کے ہاں کی خصوصیت ہے مجھے بھی اس سے حصہ دیں۔
۳؎ یعنی جو مسلمان الله کی رضا کے لیے لوگوں کی ناراضگی کی پرواہ نہ کرے تو اگرچہ لوگ اس سے ناراض ہو جاویں مگر ان شاءالله اس کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے،الله تعالٰی اسے لوگوں کے شر سے بچائے گا،یہ عمل بہت ہی مجرب ہے جس کا اب بھی تجربہ ہورہا ہے۔
۴؎ یعنی ایک کام سے لوگ تو خوش ہوتے ہوں مگر وہ شرعًا حرام ہو،یہ شخص لوگوں کی خوشنودی کے لیے وہ کام کرے،الله تعالٰی کی ناراضی کی پرواہ نہ کرے وہ انہیں لوگوں کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوگا جن کی خوشنودی کے لیے اس نے یہ حرکت کی۔
۵؎ پھر وہی لوگ اس خوشامدی آدمی کو ہلاک یا ذلیل و خوار کردیں گے جنہیں خوش کرنے کو اس نے اپنے رب کو ناراض کرلیا لہذا سب کو راضی کرنے کے لیے رب کو ناراض نہ کرو،کسی کی خوشنودی کے لیے گناہ یا کفر یا شرک نہ کرو۔
۶؎ اس سے معلوم ہوا کہ سنت یہ ہے کہ خط کے اول و آخر میں سلام لکھا جاوے درمیان میں مضمون کو، جناب ام المؤمنین نے یہاں ایسا ہی کیا۔
|
5131 -[9] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَن ابْن مَسْعُود قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ:(الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمانهم بظُلْم)شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالُوا: يَا رَسُول اله: أَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ نَفْسِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ ذَاكَ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ أَلَمْ تَسْمَعُوا قَوْلَ لُقْمَانَ لِابْنِهِ: (يَا بني لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ؟) فِي رِوَايَةٍ:«لَيْسَ هُوَ كَمَا تَظُنُّونَ إِنَّمَا هُوَ كَمَا قَالَ لُقْمَان لِابْنِهِ» . |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے نہ ملایا ۱؎ تو یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ پر گراں گزری۲؎ انہوں نے عرض کیا یارسول الله ہم میں سے کون ہے کہ جس نے اپنے پرظلم نہ کیا ہو۳؎ تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا یہ مراد نہیں ظلم تو شرک ہے۴؎ کیا تم نے لقمان کا فرمان اپنے فرزند سے نہ سنا کہ اے میرے بچے شریک نہ ٹھہرا بے شک شرک بڑا ظلم ہے ۵؎ اور ایک روایت میں ہے کہ جو تم سمجھتے ہو وہ مراد نہیں یہ تو ایسا ہے جیسا لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا ۶؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع