30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5127 -[5] وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟». قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ.فَقَالَ:«إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْم الْقِيَامَة بِصَلَاة وَصِيَام وَزَكَاة وَيَأْتِي وَقَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا. وَأَكَلَ مَالَ هَذَا. وَسَفَكَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرح فِي النَّار» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس و کنگال کون ہے ۱؎ صحابہ رضی الله عنہم نے عرض کیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے کہ جس کے پاس نہ درہم ہوں نہ سامان ۲؎ تو فرمایا میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزے زکوۃ لے کر آیا۳؎ اور یوں آئے کہ اسے گالی دی،اسے تہمت لگائی ،اس کا مال کھایا،اس کا خون بہایا،اسے مارا۴؎ تو اس کی نیکیوں میں سے کچھ اس مظلوم کو دے دی جاویں اور کچھ اس مظلوم کو ۵؎ پھر اگر اس کے ذمہ حقوق کی ادائیگی سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوجاویں ۶؎ تو ان مظلوموں کی خطائیں لے کر اس ظالم پر ڈال دی جاویں ۷؎ پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے ۸؎(مسلم) |
۱؎ یہاں مفلس سے مراد کامل پورا پور اغریب ہے یا وہ جو بظاہر غنی معلوم ہوتا ہو مگر حقیقتًا مفلس ہو۔
۲؎ یعنی ہم لوگ اپنے محاورہ و اصطلاح میں مفلس اسے کہتے ہیں جس کے پاس مال نہ ہو۔بہرحال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سوال حقیقت پر مبنی ہے صحابہ کرام کا جواب عرف پر ہے۔
۳؎ یعنی نیک اعمال سے بھرپور آئے مالی بدنی ہر طرح کی نیکیاں اس کے پاس ہوں۔خیال رہے کہ دنیا کی تونگری مال سے ہے آخرت کی تونگری اعمال سے۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں اعمال سے مراد مقبول نیکیاں ہیں جو شرعًا درست ہوں اور عندالله قبول ہوں۔
۴؎ خیال رہے کہ تقویٰ کے دو بازو ہیں: ایک بلکہ پہلا بازو ہے بری چیزوں خصوصًا لوگوں کی حق تلفی سے بچنا، دوسرا بازو ہے نیک اعمال کرنا۔یہ نفی ہے اور اثبات کا مجموعہ تقویٰ ہے۔اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ گنہگاربھی حضور کا امتی ہے کہ اسے حضور صلی الله علیہ وسلم نے امتی فرمایا۔دوسرے یہ کہ گنہگاروں کی نیکیاں بھی قبول ہوسکتی ہیں،ہاں نیکیوں کا بقا اس سے ہے کہ اس نے کسی کے حق نہ مارے ہوں۔
۵؎ اس طرح کہ اس ظالم کی کچھ نیکیاں قرض خواہ لے لیں کچھ دوسرے مظلوم لوگ،یہ لائے سب کچھ مگر بچے کچھ نہیں۔
۶؎ تفسیر روح البیان نے ایک جگہ فرمایا کہ الله تعالٰی اپنے فضل و کرم سے نیکیوں میں اضافہ فرماتا ہے کہ ایک کا ثواب دس سے لے کر سات سو تک بعض کا اس سے بھی زیادہ۔یہ چھین لیا جانا اس زیادتی میں ہوگا اصل ایک نیکی بھی نہ چھنے گی،یونہی روزہ قرض دار کو نہ دیا جاوے گا کہ فرمایا جاوے گا الصوم لی وانا اجزی بہ روزہ میرا ہے اور میں ہی اس کا عوض ہوں۔
۷؎ اس سے معلوم ہوا کہ حقوق العباد میں شفاعت نہ ہوگی جب تک کہ صاحب حق معاف نہ کردے۔ (مرقات)
۸؎ بقیہ قرضوں کے عوض۔اس سے معلوم ہوا کہ قرض بلکہ سارے حقوق العباد کی نہ معافی ہے نہ شفاعت،بغیر صاحب حق کے معاف کئے معاف نہیں ہوتے۔(مرقات)حدیث کا مقصد یہ ہے کہ روپیہ پیسہ کی مفلسی عارضی ہے جو موت آنے پر بلکہ کبھی زندگی میں ہی دولت مل جانے پر ختم ہوجاتی ہے،یہ مفلسی وہ ہے جو مرے بعد بھی ختم نہیں ہوتی۔ابھی عرض کیا گیا کہ اصل نیکی اہل حقوق کو نہ دی جائے گی بلکہ وہ زیادتیاں جو رب کے فضل سے ملی ہیں،روزہ کی اصل کسی کو نہ دی جاوے نہ زیادتی،اہل حقوق کے گناہ ظالم پر ڈالنا عین عدل ہے،دنیا میں مقروض کا مکان،سامان اہلِ حقوق کو دے دیئے جاتے ہیں وہاں اگر ایسا ہو تو مضائقہ نہیں۔خیال رہے کہ یہاں سیئات سے مراد برے عقائد نہیں بلکہ برے اعمال ہیں وہ بھی صغیرہ لہذا اگر کسی مسلمان پر کافر کا قرض رہ گیا تو اس کا کفر یا زنا،چوری وغیرہ اس پر نہ ڈالی جاوے گی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع