دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

5126 -[4]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ مِنْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ لَا يَكُونَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلِمَتِهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس کا اپنے بھائی مسلمان پرکوئی ظلم ہو اس کی آبرو کا یا کسی اور چیز کا ۱؎  وہ اس سے آج ہی معافی لے لے۲؎  اس سے پہلے کہ اس کے پاس نہ دینار ہو نہ درہم۳؎ اگر اس ظالم کے پاس نیک عمل ہوں گے تو بقدر ظلم اس سے چھین لیے جائیں گے۴؎  اور اگر اس کے نیکیاں نہ ہوں گی ۵؎  تو اس مظلوم کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیئے جائیں گے ۶؎(بخاری)

۱؎ یعنی جس نے اپنے بھائی مسلمان کی ناحق بے آبروئی کی ہو یا اس کا مال مارا ہو یا ناحق دبایا ہو یا کسی اور طرح کا اس پر ظلم کیا ہو۔

۲؎  یعنی اپنی اور اس کی موت سے پہلے اس سے معافی لے لے،آج سے مراد دنیا کے دن ہیں۔معافی مانگنے کی چند صورتیں ہیں:(۱)قرض ہو تو ادا کردے(۲)اسے مارا پیٹا ہو تو قصاص دیدے یا ان تمام سے معافی مانگ لے اور وہ بخوشی معافی کردے (۳)اگر قرض خواہ مرگیا ہو تو اس کے وارثوں کو قرض ادا کردے(۴)اور اگر وارث معلوم نہ ہوں تو اسکے نام پر خیرات کر دے(۵)مرحوم کے لیے ہمیشہ دعائے مغفرت کرتا رہے،اسے ثواب ایصال کرتا رہے مگر اس آخری صورت میں معافی کی امید ہے یقین نہیں۔بہتر یہی ہے کہ خود اس سے معافی مانگے بلکہ یہ کوشش کرے کہ کسی کا حق نہ مارے۔

۳؎  اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو روپیہ پیسہ خرچ کرکے معافی ہوسکتی ہے مگر قیامت میں یہ صورت ناممکن ہے،وہاں نہ تو کسی کے پاس مال ہوگا اور نہ مال کے ذریعہ معافیاں حاصل ہوں گی۔

۴؎  اور مظلوم کے نامہ اعمال میں لکھ دیئے جائیں گے جیسے ظالم کے صدقات خیرات وغیرہ شامل ہیں کہ تین پیسہ قرضے کے عوض مقروض کی سات سو۷۰۰ نمازیں قرض خواہ کو دلوادی جائیں گی،نمازیں بھی وہ جو باجماعت اد اکی ہوں۔اگر قرض خواہ کافر ہے تو اس کا عذاب ہلکا کردیا جائے گا یا اس کے گناہ اس ظالم پر ڈال دیئے جائیں گے۔

۵؎  یا اس طرح کہ ظالم کے پاس نیکیاں ہوں ہی نہیں یا اس طرح کہ نیکیاں تو تھیں مگر حقوق والے لے گئے،اس کے پاس سے ختم ہوگئیں مگر حقوق باقی رہے۔

۶؎ یا تو اس طرح کہ مظلوم کے گناہ جسمانی شکل میں ہوں اور ظالم پر لاد دیئے جاویں یا ان گناہوں کے عوض ظالم کو سزا دے دی جاوے اور مظلوم کو نجات۔خیال رہے کہ کوئی شخص قیامت میں کسی کا گناہ خود خوشی سے نہ اٹھائے گا لیکن اگر رب تعالٰی کی طرف سے جبرًا ڈال دیا جائے تو انکار بھی نہ کرسکے گا۔اس حدیث کی تائید اس آیت کریمہ سے ہوتی ہے"وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَہُمْ وَاَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِہِمْ"۔حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل و توجیہ کی ضرورت نہیں اور اس آیت کے خلاف نہیں کہ"لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی"اور نہ اس کے خلاف ہے"وَمَا ہُمۡ بِحَامِلِیۡنَ مِنْ خَطٰیٰہُمۡ مِّنۡ شَیۡء" نہ اس کے خلاف ہے"لَیۡسَ لِلْاِنۡسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی"نہ اس کے خلاف ہے"لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیۡہَا مَا اکْتَسَبَتْ" کہ ان آیات میں بخوشی دوسرے کے گناہ اٹھانے کی نفی ہے ورنہ اس آیت و حدیث میں جبرًا ڈال دیئے جانے کا ثبوت ہے۔

5127 -[5]

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟». قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ.فَقَالَ:«إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْم الْقِيَامَة بِصَلَاة وَصِيَام وَزَكَاة وَيَأْتِي وَقَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا. وَأَكَلَ مَالَ هَذَا. وَسَفَكَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرح فِي النَّار» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس و کنگال کون ہے ۱؎ صحابہ رضی الله عنہم نے عرض کیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے کہ جس کے پاس نہ درہم ہوں نہ سامان ۲؎ تو فرمایا میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزے زکوۃ لے کر آیا۳؎  اور یوں آئے کہ اسے گالی دی،اسے تہمت لگائی ،اس کا مال کھایا،اس کا خون بہایا،اسے مارا۴؎  تو اس کی نیکیوں میں سے کچھ اس مظلوم کو دے دی جاویں اور کچھ اس مظلوم کو ۵؎ پھر اگر اس کے ذمہ حقوق کی ادائیگی سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوجاویں ۶؎ تو ان مظلوموں کی خطائیں لے کر اس ظالم پر ڈال دی جاویں ۷؎ پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے ۸؎(مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن