30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ ظلم کے لغوی معنی ہیں اندھیرا تاریکی،اس سے ہے ظلمت اور ظلمات۔اصطلاح میں ظلم کے تین معنی ہیں:کسی کا حق مارنا، کسی کو غیر محل میں خرچ کرنا،کسی کو بغیر قصور کے سزا دینا۔الله تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم کسی پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتے۔ یہاں ظلم سے مراد ہے بے قصور کو سزا دے دینا۔سیدنا عبدالله ابن عمر فرماتے ہیں کہ الله تعالٰی ساری دنیا کو دوزخ میں ڈال دے تو وہ ظالم نہیں،یہاں ظلم کے پہلے دو معنی سے کوئی معنی مراد ہیں۔عارفین فرماتے ہیں الله تعالٰی نے ہم کو دل بخشا ہے اپنا ذکر اپنی فکر اپنی محبت کے لیے،جو کوئی اپنا دل اس کے علاوہ کسی کام میں صرف کرے وہ اپنے پرظلم کرتا ہے۔ایک صوفی فرماتے ہیں شعر
علیك بھا صرفا وان شئت ضربھا فعدلك عن ظلم الحبیب ھوالظلم
ظلم کی بہت سی قسمیں ہیں یہاں ہر قسم کا ظلم مراد ہے۔
|
5123 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الظُّلْمُ ظُلْمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . مُتَّفق عَلَيْهِ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم قیامت کے دن تاریکیاں تاریکیاں ہوگا ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی ظلم خواہ کسی قسم کا ہو قیامت میں اندھیروں کا باعث بنے گا لہذا انصاف و عدل قیامت میں ان شاءالله تعالٰی نور کا سبب بنے گا۔دنیا آخرت کی کھیتی ہے جو کچھ بوؤ گے وہی کاٹو گے،یہ حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔کفر و شرک بھی ظلم ہے،گناہ و بدکاری بھی ظلم،کسی کو ستانا بھی ظلم،ان کے درجے مختلف ہیں۔بدترین ظلم کفر و شرک ہے،اس کے بعد دوسروں کا حق مارنا،اس کے علاوہ حقوق الله میں کوتاہی کرنا جیسا ظلم ویسی قیامت میں تاریکی"ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ"الله تعالٰی ظلم سے بچائے۔
|
5124 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يفلته» ثمَّ يقْرَأ (وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظالمة)الْآيَة. |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله ظالم کو مہلت دیتا ہے حتی کہ جب اسے پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں ۱؎ پھر یہ آیت تلاوت کی آپ کے رب کی پکڑ ایسی ہے جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے حالانکہ وہ بستیاں ظالم ہوں ۲؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع