30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بہر درش گیتی جبیں فرسودہ است خویشتن راعبدہ فرمودہ است
حضور صلی الله علیہ وسلم نے ہمیشہ اپنے کو بندہ فرمایا،دنیا ان کے آستانے پر ماتھا ٹیکتی ہے آج حضور کے آستانہ کا غباربھی قیمتی ہے۔
۵؎ جیساکہ آج بھی دیکھا جارہا ہے کہ بعض لوگ شیخی کے مارے اکڑے جاتے ہیں،لوگ انہیں گالیاں دیتے ہیں،انہیں برائی سے یاد کرتے ہیں،دیکھ لو ابلیس اپنے آپ کو بہت ہی اونچا سمجھتا ہے مگر دنیا اس پر لعنت و پھٹکارکر رہی ہے،یہ ہے اس فرمان عالی کاظہور۔
۶؎ لوگوں کی نگاہ میں اس کی یہ ذلت اس کی دلیل ہے کہ وہ الله تعالٰی کے ہاں بھی ذلیل ہے مؤمنوں کی نگاہ میں ذلت مردودیت کی دلیل ہے۔خدا کی پناہ!
|
5120 -[17] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا رَبِّ مَنْ أَعَزُّ عِبَادِكَ عِنْدَكَ؟ قَالَ: مَنْ إِذَا قَدَرَ غَفَرَ " |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے رب تیرے نزدیک تیرے بندوں سے کون زیادہ عزت والا ہے فرمایا کہ جب قدرت پائے بخش دے ۱؎ |
۱؎ جو قدرت پاکر بخش دے وہ سنیت الہیہ پر عمل کرتا ہے،الله تعالٰی قادر ہے مگر غفور رحیم ہے،ہمارے گناہ بخشتا رہتا ہے اور بخشے گا۔خیال رہے کہ گناہ قابل بخشش ہیں نہ کہ غداری کہ غداری قابلِ بخشش نہیں اس لیے رب تعالٰی انہیں نہ بخشے گا جو کفر پر مرجائیں،یوں ہی ہم اپنے مجرموں کو ضرور بخشیں مگر دین،قوم،ملک کے دشمن کو ہرگز نہ بخشیں۔
|
5121 -[18] وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ خَزَنَ لِسَانَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهُ كَفَّ اللَّهُ عَنْهُ عَذَابَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنِ اعْتَذَرَ إِلَى الله قَبِلَ الله عذره» |
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اپنی زبان کی حفاظت کرے الله تعالٰی اس کے عیب چھپالے گا ۱؎ اور جو اپنا غصہ روکے الله تعالٰی اس سے قیامت کے دن اپنا عذاب روک لے گا ۲؎ اور جو الله تعالٰی کی بارگاہ میں معذرت کرے الله تعالٰی اس کے عذر قبول کرلے گا۳؎ |
۱؎ اس فرمان کے دو۲ مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ جو اپنی زبان سے لوگوں کے عیوب بیان نہ کرے اوروں کے عیوب چھپاوے تو الله تعالٰی اس کے عیوب دنیا و آخرت میں چھپادے گا۔دوسرے یہ کہ اکثر خاموش رہے تو اس کے عیوب چھپے رہیں گے،عیب و ہنر زبان سے ہی ظاہر ہوتے ہیں۔شعر
تامرد سخن نہ گفتہ باشد عیب و ہنرش نہفتہ باشد
۲؎ یعنی اس پر غضب نہ فرمائے گا جیسا عمل ویسا بدلہ۔
۳؎ اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ جو الله کے لیے دوسرے مجرموں کے عذر قبول کرکے انہیں معافی دے دے گا رب تعالٰی اس کی توبہ قبول فرمائے گا اس کو معافی دے گا۔دوسرے یہ کہ بڑے سے بڑا مجرم اگر توبہ کرے تو بخش دیاجاوے گا۔
|
5122 -[19] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "ثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ وَثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ فَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ: فَتَقْوَى اللَّهِ فِي السِّرِّ والعلانيةِ والقولُ بالحقِّ فِي الرضى وَالسُّخْطِ وَالْقَصْدُ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ. وَأَمَّا الْمُهْلِكَاتُ: فَهَوًى مُتَّبَعٌ وَشُحٌّ مُطَاعٌ وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ وَهِيَ أَشَدُّهُنَّ« رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْخَمْسَةَ فِي» شعب الْإِيمَان " |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین چیزیں نجات دینے والی ہیں ۱؎ اور تین چیزیں ہلاک کرنے والی لیکن نجات دینے والی تو وہ الله سے ڈرنا ہے خفیہ اور علانیہ ۲؎ اور سچی بات کہنا ہے خوشی اور ناخوشی میں اور درمیانی چال ہے امیری اور فقیری۳؎ میں لیکن ہلاک کرنے والی چیزیں تو وہ نفسانی خواہش ہے جس کی پیروی کی جائے۴؎ اوربخل ہے جس کی اطاعت ہو۵؎ اور انسان کا اپنے کو اچھا جاننا ۶؎ یہ ان سب میں سخت تر ہے ۷؎ ان پانچوں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع