30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5118 -[15] وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِنَّ الْغَضَبَ لَيُفْسِدُ الْإِيمَانَ كَمَا يُفْسِدُ الصبرُ الْعَسَل» |
روایت ہے حضرت بہز ابن حکیم سے ۱؎ وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ غصہ ایمان کو ایسا بگاڑ دیتا ہے۲؎ جیسے ایلوا(تمہ)شہد کو۳؎ |
۱؎ آپ کا نام بہزا بن حکیم ابن معاویہ قشیری ہے،آپ تابعی ہیں،ثقہ ہیں۔
۲؎ غصہ اکثر کمال ایمان کو بگاڑ دیتا ہے مگرکبھی اصل ایمان کا ہی خاتمہ کردیتا ہے لہذا یہ فرمان عالی نہایت درست ہے اس میں دونوں احتمال ہیں۔
۳؎ ایلوا ایک کڑوے درخت کا جما ہوا رس ہے،سخت کڑوا ہوتا ہے،اگر شہد میں مل جاوے تو تیز مٹھاس اور تیز کڑواہٹ مل کر ایسا بدترین مزہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا چکھنا مشکل ہوجاتا ہے،نیز یہ دونوں مل کر سخت نقصان دہ ہوجاتے ہیں،اکیلا شہد بھی مفید ہے اور اکیلا ایلوا بھی فائدہ مند مگر مل کر کچھ مفید نہیں بلکہ مضر ہے جیسے شہد و گھی ملاکر کھانے سے برص کا مرض پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے،یوں ہی مچھلی اور دودھ،یعنی مؤمن کو ناجائز غصہ بڑھ جائے تو اس کا ایمان برباد ہوجانے کا اندیشہ ہے یا کمال ایمان جاتا رہتا ہے۔
|
5119 -[16] وَعَن عمر قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ تَوَاضَعُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ فَهُوَ فِي نَفْسِهِ صَغِيرٌ وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ عَظِيمٌ وَمَنْ تَكَبَّرَ وَضَعَهُ اللَّهُ فَهُوَ فِي أَعْيُنِ النَّاسِ صَغِيرٌ وَفِي نَفْسِهِ كَبِيرٌ حَتَّى لَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِمْ مِنْ كَلْبٍ أَوْ خنزيرٍ» |
روایت ہے حضرت عمر رضی الله عنہ سے آپ نے منبر پر فرمایا ۱؎ اے لوگو انکساری اختیار کرو ۲؎ کیونکہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو الله تعالٰی کے لیے انکسار و عجز کرتا ہے الله اسے اونچا کردیتاہے۳؎ تو وہ اپنے دل کا چھوٹا ہوتا ہے اور لوگوں کی نگاہ میں بڑا۴؎ اور جوغرورکرتا ہے الله تعالٰی اسے نیچا کردیتا ہے تو وہ لوگوں کی نگاہ میں چھوٹا ہوتا ہے اور اپنے دل میں بڑا۵؎ حتی کہ وہ لوگوں کے نزدیک کتے اور سؤر سے زیادہ ذلیل ہوتا ہے ۶؎ |
۱؎ یعنی آپ نےکسی خاص شخص سے معمولی طریقہ سے نہ کہا بلکہ بہت اہتمام کے ساتھ برسر منبر اعلان فرمایا۔
۲؎ یعنی ہر مسلمان اپنے بھائی مسلمان کے ساتھ نرم رہے،رب تعالٰی مومنوں کی صفت یوں فرماتاہے:"اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیۡنَ"۔
۳؎ یہ قاعدہ بہت ہی مجرب ہے۔جو کوئی اپنے کو رضا الٰہی کے لیے مسلمانوں کے لیے نرم کردے،ان کے سامنے انکسار سے پیش آئے تو الله تعالٰی لوگوں کے دلوں میں اس کی عزت پیدا فرمادیتا ہے اور اسے بڑی بلندی بخشتا ہے۔
۴؎ حضور صلی الله علیہ وسلم نے ایک دعا تعلیم فرمائی ہے:"اللہم اجعلنی فی نفسی صغیرا وفی اعین الناس کبیرا۔الٰہی مجھے میری اپنی نگاہ میں چھوٹا،لوگوں کی نگاہ میں بڑا بنادے۔حضرات اولیاء الله ہمیشہ اپنے کو عاجز و گنہگار سمجھتے اور لوگ ان کے آستانوں پر پیشانیاں رگڑتے ہیں۔شعر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع