30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی جو گھی ان روٹیوں میں چپڑا گیا ہے وہ گوہ کی کھال کے مشکیزہ میں تھا غالبًا حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے اس گھی میں ہلکی سی بو محسوس فرمائی اس لیے پوچھا۔
۳؎ یعنی تم کھالو یا کسی اور کو کھلاؤ ہم ملاحظہ نہ فرمائیں گے۔معلوم ہوا کہ یہ حرام نہ تھا حضور انور کو ناپسند تھا قدرے مہک کی وجہ سے۔
۴؎ یعنی ضعیف اور نامقبول ہے۔اشعۃ اللمعات اور مرقات نے فرمایا کہ ابوداؤد نے اس حدیث کو اس لیے منکر فرمادیا کہ یہ حدیث عادت کریمہ کے خلاف ہے۔حضور اعلیٰ کھانوں کی آرزو کیسے کرسکتے ہیں آپ تو تابعین و متوکلین کے سردار ہیں ہم نے ابھی اس کی وجہ بیان کردی کہ یہ عمل شریف یہاں جواز کے لیے ہے۔حضور صلی الله علیہ وسلم نے مرغ کھایا ہے،بٹیریں ملاحظہ فرمائی ہیں،جب اعلیٰ نعمتوں کا کھانا تقویٰ کے خلاف نہیں تو ان کی خواہش کرنا خلاف تقویٰ کیونکر ہوگا۔
|
4230 -[72] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن أَكْلِ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بغیر پکائے ہوئے لہسن کھانے سے منع فرمایا ۱؎(ترمذی) |
۱؎ مسجد میں آنے والے کو کچی پیاز کچا لہسن کھانا سخت منع ہے ویسے عام حالت میں جائز ہے اگرچہ بہتر یہ ہی کہ اس کی بو مارکر کھائے۔جب تک حقہ کی بو منہ سے آتی رہے مسجد میں نہ آئے کہ یہ بو لہسن پیاز کی بو سے زیادہ سخت ہے۔
|
4231 -[73] وَعَن أبي زيادٍ قَالَ: سُئلتْ عائشةُ عَنِ الْبَصَلِ فَقَالَتْ: إِنَّ آخِرَ طَعَامٍ أَكَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامُ فِيهِ بصل. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے ابو زیاد سے فرماتے ہیں کہ جناب عائشہ سے پیاز کے متعلق پوچھا گیا آپ نے فرمایا کہ آخری کھانا جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کھایا وہ تھا جس میں پیازتھی ۱؎(ابوداؤد) |
۱؎ پکی ہوئی پیاز ہوگی لہذا یہ حدیث ممانعت کی احادیث کے خلاف نہیں۔
|
4232 -[74] وَعَن ابْنيْ بُسرٍ السُّلَمِيَّين قَالَا: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدَّمْنَا زُبْدًا وَتَمْرًا وَكَانَ يُحِبُّ الزبدَ والتمرِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے بسر کے دوسلمی بیٹوں سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تو ہم نے مکھن اور چھوہارے پیش کیے حضور مکھن اور چھوہارے پسند فرماتے تھے ۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ ان میں سے ایک کا نام عطیہ دوسرے کا نام عبدالله ہے،بسراز کے بیٹے ہیں چونکہ یہ دونوں صحابی ہیں لہذا ان کا نام معلوم نہ ہونا مضر نہیں تمام صحابہ عادل ہیں۔(مرقات)
۲؎ اس لیے ہم نے یہ ہی چیزیں بارگاہ عالی میں پیش کیں۔اس کی حکمت پہلے عرض کی جاچکی ہے کہ چھوہارے اور مکھن کے ملانے میں کیا مصلحت تھی۔
|
4233 -[75] وَعَنْ عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: أُتِينَا بِجَفْنَةٍ كَثِيرَة من الثَّرِيدِ وَالْوَذْرِ فَخَبَطْتُ بِيَدِي فِي نَوَاحِيهَا وَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَبَضَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى يَدِيَ الْيُمْنَى ثُمَّ قَالَ: «يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ» . ثُمَّ أَتَيْنَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانُ التَّمْرِ فَجَعَلْتُ آكُلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطبقِ فَقَالَ: «يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ» ثُمَّ أَتَيْنَا بِمَاءٍ فَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمسح بَلل كَفَّيْهِ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَقَالَ: «يَا عِكْرَاشُ هَذَا الْوُضُوءُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے حضرت عکراش ابن ذویب سے ۱؎ فرماتے ہیں ہمارے پاس بہت ثرید اور گوشت والا پیالہ لایا گیا ۲؎ تو میں نے اس کے کناروں میں ہاتھ مارا ۳؎ اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سامنے سے کھایا ۴؎ پھر حضور نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ پکڑ لیا ۵؎ فرمایا اے عکراش ایک جگہ سے کھاؤ کیونکہ یہ ایک ہی کھانا ہے ۶؎ پھر ہمارے پاس ایک طباق لایا گیا جس میں قسم قسم کے چھوہارے تھے تو میں اپنے سامنے سے کھانے لگا ۷؎ اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ہاتھ طباق میں گھومنے لگا ۸؎ پھر فرمایا اے عکراش جہاں سے چاہو کھاؤ کہ یہ ایک قسم سے زیادہ ہے ۹؎ پھر ہمارے پاس پانی لایا گیا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور ہاتھوں کی تری اپنے چہرے اور کہنیوں اور سر پر مل لی ۱۰؎ اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس سے جسے آگ پکاوے ۱۱؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع