30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5115 -[12] وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَخَيَّلَ وَاخْتَالَ وَنَسِيَ الْكَبِيرَ الْمُتَعَالِ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَجَبَّرَ وَاعْتَدَى وَنَسِيَ الْجَبَّارَ الْأَعْلَى بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ سَهَى وَلَهَى وَ نَسِيَ الْمَقَابِرَ وَالْبِلَى بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ عَتَى وَطَغَى وَنَسِيَ الْمُبْتَدَأَ وَالْمُنْتَهَى بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدُّنْيَا بِالدِّينِ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدِّينَ بِالشُّبَهَاتِ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ طَمَعٌ يَقُودُهُ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ هَوًى يُضِلُّهُ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ رَغَبٌ يُذِلُّهُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» . وَقَالَا: لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ أَيْضًا: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت اسماء بنت عمیس سے فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ برا بندہ وہ بندہ ہے جو غرورواکڑ کرے ۱؎ اونچی شان والے کو بھول جائے۲؎ برا بندہ وہ بندہ ہے جو ظلم اور زیادتی کرے۳؎ اور قہار اعلیٰ کو بھول جائے۴؎ برا بندہ وہ بندہ ہے جو بھول جاوے کھیل میں لگ جاوے اور قبرستان اور گل جانے کو بھول جائے۵؎ برا بندہ وہ بندہ ہے جو غرورکرے اور حد سے بڑھ جائے ۶؎ اور اپنی ابتداء و انتہاء کو بھول جاوے۷؎ وہ بندہ برا بندہ ہے جو دنیا کو دین کے لیے دھوکہ دے ۸؎ وہ بندہ برا بندہ ہےجو شبہات سے دین کو بگاڑ دے ۹؎ وہ بندہ برا بندہ ہے جسے ہوس کھینچے پھرے ۱۰؎ وہ بندہ برا بندہ ہے جسے نفسانی خواہش گمراہ کردے ۱۱؎ وہ بندہ برا بندہ ہے جسے خواہشیں ذلیل کر دیں۱۲؎ (ترمذی،بیہقی شعب الایمان)اور بیہقی نے کہا کہ اس کی اسناد قوی نہیں ۱۳؎ ترمذی نے بھی کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۱۴؎ |
۱؎ تخیل دل کا کام ہے یعنی اپنے کو بڑا جاننا اور اختیال جسم کا کام یعنی چال ڈھال میں اپنی بڑائی ظاہر کرنا۔اختیال کی بہت صورتیں ہیں: فقہاءکرام متکبروں کی رفتار،ان کی گفتار،ان کی بیٹھک،ان کے لباس سے منع فرماتے ہیں۔
۲؎ ہمیشہ اپنے سے نیچوں کو دیکھنے سے غرور پیدا ہوتا ہے،اپنے سے اوپر کو دیکھنے سے عجزو انکسار پیدا ہوتا ہے۔جب اپنی شان اچھی معلوم ہو تو الله تعالٰی اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی شان پر نظر کرو گے اپنے کو بہت نیچا پاؤ گے۔
۳؎ مظلومین پر زیادتی تجبر ہے اور غرباء و مساکین پر زیادتی اعتداء ہے یعنی اپنی حد سے آگے بڑھنا۔
۴؎ یعنی اسے یہ خیال نہ آوے کہ میرا رب مجھ سے زیادہ قوی اور قادر ہے اگر میں اس کی پکڑ میں آگیا تو کیسے چھوٹوں گا۔
۵؎ اپنی حقیقت کو بھول جانا سہو ہے اور غافل کرنے والی چیزوں میں مشغول ہوجانا لہو۔
۶؎ جو شخص اپنے انجام کو یاد رکھے تو ان شاءالله کبھی غافل نہ ہو۔انجام یاد دلانے والی چیز قبر ہے،یہ گرد و غبار جو نالیوں میں پڑ رہے ہیں صدہا بادشاہ وزراء امراء ہیں جو خاک بن کر اڑتے پھررہے ہیں۔
۷؎ یعنی نہ یہ خیال کرے کہ پہلے میں ایک قطرہ ناپاک تھا پھر کمزور بچہ اور آئندہ میں خاک میں مل کر خاک ہوجاؤں گا درمیان کی اس قوت و دولت پر غرورکرنا عقل کی بات نہیں۔شعر
تم شوق سے کالج میں پڑھو،پارک میں پھولو جائز ہے جہازوں میں اڑو یا چرخ پہ جھولو
پر ایک سخن بندہ مسکین کا رکھو یاد الله کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو
۸؎ اس طرح کہ نیکوں کی سی شکل بنائے اچھے اعمال کرکے دکھائے تاکہ لوگ اس کے پھندے میں آجاویں اور وہ ان کو اپنے جال میں لے لے جیساکہ آج کل بہت ہورہا ہے۔یختل بنا ہے ختل سے بمعنی دھوکہ دینا،کسی کو فریب میں لے لینا،دنیا سے مراد دنیا والے ہیں۔
۹؎ اس طرح کہ وہ غلط تاویلوں سے حرام کھاتا ہو اور اسے حلال ثابت کرنے کی کوشش کرے،بدمعاش ہو مگر صالح بن کر لوگوں کے سامنے آئے اس طرح اپنا دین خراب کرلے۔
۱۰؎ یعنی دنیاوی لالچ خدا تعالٰی سے ہٹاکر مخلوق کے دروازوں پر پھرائے ہر جگہ ٹھوکریں کھلائے۔کسی نے امام شاذلی رحمۃ الله علیہ سے پوچھا کہ کیمیا کیا ہے،فرمایا دو باتیں کیمیا ہیں: الله پر نظر،مخلوق سے نا امیدی،قناعت نہ ختم ہونے والی دولت ہے۔الله تعالٰی قناعت نصیب کرے۔(مرقات)
۱۱؎ خواہش نفسانی طمع کا نتیجہ ہے۔طمع اور ہویٰ لازم ملزوم ہیں جب طمع ترقی کر جاتی ہے تو انسان بے دین بھی بن جاتا ہے،حب دنیا ہر برائی کی جڑ ہے۔
۱۲؎ یعنی دولت عزت کی غلط خواہش اسے در در پھرائے ٹھوکریں کھلائے۔خیال رکھو کہ دولت،عزت،ایمان، عرفان حضور صلی الله علیہ وسلم کے دامن کرم میں ہے ان کے ہوجاؤ جو مانگو سو پاؤ۔شعر
آنکس کہ درخویش براند آن را کہ بخواند بہ درکس نہ دواند
اگر ہم ان کے ہوجاویں تو دنیا ہماری ہوجاوے۔اعلیٰ حضرت نے فرمایا شعر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع