30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی جیسے حسی آگ حسی پانی سے بجھائی جاتی ہے ایسے ہی باطنی آگ باطنی پانی سے بجھائی جاوے۔وضو دونوں سے مرکب ہے کہ اس میں حسی پانی کا استعمال ہے اور یہ جسم و دل اور روح کی پاکی کا ذریعہ ہے اسی لیے غصہ کی آگ وضو سے بجھتی ہے یہ ماہ نبوی طب کا نسخہ مجرب ہے جس سے یونانی طبیب بے خبر ہیں۔شعر
چند خوانی حکمت یونانیاں حکمت ایمانیاں راہم بخواں
حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے غصہ کے اور بھی علاج بیان فرمائے ہیں مثلًا لاحول شریف پڑھنا،اعوذ بالله پڑھنا،مثلًا قرآن کریم فرماتاہے:"وَ اِمَّا یَنۡزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیۡطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ"یعنی جب تمہیں شیطان کا اثر پہنچے تو اعوذ بالله پڑھو یہ غصہ بھی شیطانی اثر ہے۔یہ بہرحال لاحول اور اعوذ قولی علاج ہے اور وضو عملی علاج ہے،ٹھنڈا پانی پی لینا بھی غصہ کا علاج ہے۔(مرقات و اشعۃ اللمعات)
|
5114 -[11] وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ وَإِلَّا فَلْيَضْطَجِعْ» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے ابوذر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سےکسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے پھر اگر غصہ دفع ہوجائے تو فبہا ورنہ لیٹ جاوے ۱؎ (احمد،ترمذی) |
۱؎ یہ غصہ کا دوسرا عملی علاج ہے یعنی اپنا حال بدل دینا کہ کھڑا ہو تو بیٹھ جاوے،اگر اس سے بھی غصہ نہ جاوے تو لیٹ جائے ان شاءالله تعالٰی غصہ جاتا رہے گا۔لیٹ جانے میں اپنے کو مٹی میں ملا دینا ہے،مٹی میں تواضع ہے ان شاءالله تعالٰی عجز و انکسار آجاوے گا،نیز کھڑا آدمی جلد کچھ حرکت کر گزرتا ہے بیٹھا ہوا یا لیٹا ہوا اس قدر جلدی کوئی حرکت غیر نہیں کرسکتا۔
|
5115 -[12] وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَخَيَّلَ وَاخْتَالَ وَنَسِيَ الْكَبِيرَ الْمُتَعَالِ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَجَبَّرَ وَاعْتَدَى وَنَسِيَ الْجَبَّارَ الْأَعْلَى بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ سَهَى وَلَهَى وَ نَسِيَ الْمَقَابِرَ وَالْبِلَى بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ عَتَى وَطَغَى وَنَسِيَ الْمُبْتَدَأَ وَالْمُنْتَهَى بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدُّنْيَا بِالدِّينِ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدِّينَ بِالشُّبَهَاتِ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ طَمَعٌ يَقُودُهُ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ هَوًى يُضِلُّهُ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ رَغَبٌ يُذِلُّهُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» . وَقَالَا: لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ أَيْضًا: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت اسماء بنت عمیس سے فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ برا بندہ وہ بندہ ہے جو غرورواکڑ کرے ۱؎ اونچی شان والے کو بھول جائے۲؎ برا بندہ وہ بندہ ہے جو ظلم اور زیادتی کرے۳؎ اور قہار اعلیٰ کو بھول جائے۴؎ برا بندہ وہ بندہ ہے جو بھول جاوے کھیل میں لگ جاوے اور قبرستان اور گل جانے کو بھول جائے۵؎ برا بندہ وہ بندہ ہے جو غرورکرے اور حد سے بڑھ جائے ۶؎ اور اپنی ابتداء و انتہاء کو بھول جاوے۷؎ وہ بندہ برا بندہ ہے جو دنیا کو دین کے لیے دھوکہ دے ۸؎ وہ بندہ برا بندہ ہےجو شبہات سے دین کو بگاڑ دے ۹؎ وہ بندہ برا بندہ ہے جسے ہوس کھینچے پھرے ۱۰؎ وہ بندہ برا بندہ ہے جسے نفسانی خواہش گمراہ کردے ۱۱؎ وہ بندہ برا بندہ ہے جسے خواہشیں ذلیل کر دیں۱۲؎ (ترمذی،بیہقی شعب الایمان)اور بیہقی نے کہا کہ اس کی اسناد قوی نہیں ۱۳؎ ترمذی نے بھی کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۱۴؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع