30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ غضب یعنی غصہ نفس کے اس جوش کا نام ہے جو دوسرے سے بدلہ لینے یا اسے دفع کرنے پر ابھارے۔غصہ اچھا بھی ہے اور برا بھی،الله کے لیے غصہ اچھا ہے جیسے مجاہد غازی کو کفار پر یا کسی واعظ عالم کو فساق و فجار پر یا ماں باپ کو نافرمان اولاد پر آوے اور برا بھی ہوتا ہے جیسے وہ غصہ جو نفسانیت کے لیے کسی پر آوے۔الله تعالٰی کے لیے جو غضب کا لفظ آتا ہے وہاں غضب کے معنی ہوتے ہیں ناراضی و قہر کیونکہ وہ نفس و نفسانیت سے پاک ہے۔کبر کا معنی ہے عجب یعنی بڑائی اپنی ذات و صفات کو اچھا جاننا اس کے اظہار کا نام تکبر ہے،اس کا مقابل تواضع و انکسار ہے۔تکبر اچھا بھی ہے اور برا بھی،مسلمان کا اپنے کو کفار سے اچھا جاننا اور انہیں حقیر سمجھنا کہ ان کی ہیبت ہمارے دل میں نہ آئے یہ اچھا تکبر ہے،مسلمان بھائی سے اپنے کو بڑا سمجھنا انہیں ذلیل و حقیر سمجھنا یہ برا ہے۔نبی کے مقابلہ میں تکبر کفر ہے جیسے شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کے مقابلہ میں تکبر کیا تو کافر ہوا،الله تعالی کی صفت ہے متکبر وہاں اس کے معنی بہت بڑا،بہت ہی عالی و اونچا۔
|
5104 -[1] عَن أبي هريرةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: أوصني. قَالَ: «لَا تغضبْ» . فردَّ ذَلِكَ مِرَارًا قَالَ: «لَا تَغْضَبْ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک شخص نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے وصیت فرمایئے فرمایا غصہ نہ کیا کرو اس نے یہ سوال بار بار دہرایا حضور نے یہ ہی فرمایا غصہ نہ کیا کرو ۱؎ (بخاری) |
۱؎ شاید یہ سائل غصہ بہت کرتا ہوگا حضور صلی الله علیہ وسلم حکیم مطلق ہیں ہر شخص کو وہ ہی دوا بتاتے ہیں جو اس کے لائق ہیں۔نفسانی غضب و غصہ شیطانی اثر ہے اس میں انسان عقل کھو بیٹھتا ہے،غصہ کی حالت میں اس سے باطل کام و کلام سرزد ہونے لگتے ہیں۔غصہ کا علاج اعوذ بالله پڑھنا ہے یا وضو کرلینایا یہ خیال کرلینا کہ الله تعالٰی مجھ پر قادر ہے۔رحمانی غضب عبادت ہے"فَرَجَعَ مُوۡسٰۤی اِلٰی قَوْمِہٖ غَضْبٰنَ اَسِفًا"یا جیسے "غَضِبَ اللہُ عَلَیۡہِ"۔
|
5105 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ» . |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کوئی شخص کشتی سے پہلوان نہیں ہوتا ۱؎ پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے کو قابو میں رکھے ۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ کیونکہ یہ جسمانی پہلوانی فانی ہے اس کا اعتبار نہیں دو دن کے بخار میں پہلوانی ختم ہوجاتی ہے۔
۲؎ کیونکہ غصہ نفس کی طرف سے ہوتا ہے اور نفس ہمارا بدترین دشمن ہے،اس کا مقابلہ کرنا،اسے پچھاڑ دینا بڑی بہادری کا کام ہے،نیز نفس قوت روحانی سے مغلوب ہوتا ہے اور آدمی قوت جسمانی سے پچھاڑا جاتا ہے، قوت روحانی قوت جسمانی سے اعلیٰ و افضل ہے لہذا اپنے نفس پر قابو پانے والا بڑا بہادر پہلوان ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع