30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۷؎ یعنی جو شخص اپنے حقوق مارنے والے سے چشم پوشی کرے اس پر موقعہ پاکر بھی اس سے بدلہ نہ لے تو الله تعالٰی اس کی مدد اور بھی زیادہ کردے گا۔بھا کا مرجع مظلمۃ ہے۔یہ بات تجربہ سے بھی ثابت ہے معافی سے عزت بڑھتی ہے بشرطیکہ معافی کمزوری کی نہ ہو اخلاق کی ہو،وہ معافی والی آیتیں منسوخ ہیں جو کمزوری کی وجہ سے ہو اخلاقی معافی کی آیتیں محکم ہیں۔
۸؎ یعنی رشتہ داروں سے سلوک کرنا صرف الله و رسول کی رضا کے لیے ہو اپنی ناموری کے لیے نہ ہو تو ثواب ہے اس کا فائدہ ہے۔
۹؎ صدقہ ثواب ہے اور اپنے عزیزوں و اہل قرابت پر صدقہ دوہرا ثواب ہے صدقہ کا بھی اور حق قرابت ادا کرنے کا بھی۔
۱۰؎ اس سے معلوم ہوا کہ بوقت ضرورت کسی سے کچھ مانگ لینا جائز ہے صرف ضرورت کے مطابق مانگے اگر اور طرح سے ضرورت پوری ہوسکے تو نہ مانگے،اپنے پاس مال ہے اور زیادتی مال کے لیے مانگنا یہ بہرحال حرام ہے۔نصاب تین قسم کے ہیں:زکوۃ واجب ہونے کا نصاب،خیرات و زکوۃ لینے کی ممانعت کا نصاب اور سوال سے بچنے کا نصاب۔آخری نصاب بقدر ضرورت مال اپنے پاس ہونا ہے،ضرورت والا مانگے بلا ضرورت نہ مانگے،پیشہ ور گداگر ہمیشہ فقیر ہی رہتے ہیں،حاجت مند اور گداگر میں فرق کرنا چاہیے۔
|
5103 -[36] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُرِيدُ اللَّهُ بِأَهْلِ بَيْتٍ رِفْقًا إِلَّا نَفَعَهُمْ وَلَا يَحْرِمُهُمْ إِيَّاهُ إِلَّا ضَرَّهُمْ «. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي» شُعَبِ الْإِيمَانِ " |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے الله کسی گھر والوں پر مہربانی کا ارادہ نہیں کرتا مگر انہیں نفع دیتا ہے اور الله ان کو محروم کرنا نہیں چاہتا مگر انہیں نقصان دیتا ہے ۱؎ (بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ یعنی الله تعالٰی جن لوگوں پر کرم فرماتا ہے ان کے دلوں میں نرمی ڈال دیتا ہے وہ لوگوں پر نرمی کرتے ہیں جس سے ان کی عزت اور بڑھ جاتی ہے اور جن لوگوں پر الله تعالٰی قہر فرماتا ہے انہیں نرمی دل سے محروم کردیتا ہے،ان کے دل سخت ہو جاتے ہیں،لوگوں سے سختی سے پیش آتے ہیں۔نرمی بہت اچھی چیز ہے ہاں دین میں سختی اچھی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع