30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آیات نے بتا دیا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم جو دیں وہ لو جس سے منع فرمادیں ان سے باز رہو،یا ہمارے نبی مسلمانوں پر گندی چیزیں حرام فرماتے ہیں لہذا حدیث کے تمام حلال و حرام قرآن مجید میں اجمالًا مذکور ہیں۔(ازمرقات مع الزیادۃ)
۳؎ یعنی جن چیزوں کو نہ قرآن کریم نے حلال یا حرام کہا نہ حدیث پاک نے یعنی ان کا ذکر ہی کہیں نہیں وہ حلال ہیں۔یہاں مرقات اور اشعۃ اللمعات اور لمعات نے فرمایا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے یعنی جس سے قرآن و حدیث میں خاموشی ہو وہ حلال ہے آم مالٹا یوں ہی پلاؤ زردہ،فرنی،یوں ہی لٹھا ململ۔یوں ہی میلاد شریف و فاتحہ کی شیرینی سب حلال ہیں،کیوں،اس لیے کہ انہیں قرآن و حدیث نے حرام نہیں کیا یہ اسلام کا کلی قانون ہے۔
۴؎ اس حدیث کے الفاظ اسناد کے لحاظ سے صحیح ہوں یا ضعیف مگر اس کا مضمون بالکل صحیح ہےکیونکہ اس کی تائید بہت سی آیات قرآنیہ سے ہورہی ہے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"لَا تَسْـَٔلُوۡا عَنْ اَشْیَآءَ اِنۡ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ"،الخ"عَفَا اللہُ عَنْہَا"دیکھو یہاں حدیث میں عفی ہے اور قرآن کریم میں"عَفَا اللہُ عَنْہَا"ہے اور فرماتاہے:"قُلۡ لَّاۤ اَجِدُ فِیۡ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ مَیۡتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوۡحًا"الخ،دیکھو اس آیت میں کسی چیز کی حرمت نہ ملنے کو حلال ہونے کی دلیل ٹھہرایا اور فرماتاہے:"وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ"ان مذکورہ حرام عورتوں کے سوا تمام عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں،دیکھو حرام عورتوں کا کیا حرام کی تفصیل نہ کی،حرام چیزیں تو کچھ گنتی کی ہیں باقی کروڑوں چیزیں حلال ہیں۔اس کی تحقیق ہماری کتاب جاءالحق میں اور راہِ جنت میں دیکھو جہاں اس مسئلہ کی چند آیتیں اور چند حدیثیں اور فقہاء کے اقوال جمع کردیئے گئے ہیں۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو بغیر دلیل ہر چیز کو حرام کہہ دیتے ہیں، حلال کے لیے ثبوت مانگتے ہیں حرام بغیر ثبوت کہہ دیتے ہیں۔
|
4229 -[71] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي خُبزةً بيضاءَ منْ بُرَّةٍ سَمْرَاءَ مُلَبَّقَةً بِسَمْنٍ وَلَبَنٍ» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ فَقَالَ: «فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا؟» قَالَ فِي عُكَّةِ ضَبٍّ قَالَ: «ارْفَعْهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حَدِيث مُنكر |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس شربتی گندم کی سفید روٹی ہوتی جو گھی اور دودھ سے چوپڑی ہوتی ۱؎ تو قوم میں سے ایک صاحب اٹھے انہوں نے یہ تیار کی پھر لائے تو فرمایا یہ گھی کس چیز میں تھا عرض کیا گوہ کے ڈبہ میں ۲؎ فرمایا اسے اٹھالو۳؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)ابوداؤد نے کہا یہ حدیث منکر ہے۴؎ |
۱؎ یعنی ہمارا دل چاہتا ہے کہ اعلیٰ درجہ کی گندم کی روٹی ہو گھی میں چُپڑ کر دودھ میں بھگو دی گئی ہو وہ ہم کھائیں۔معلوم ہوا کہ الله کی اعلیٰ نعمتیں کھانا یا کھانے کی خواہش کرنا تقویٰ کے خلاف نہیں نہ معلوم کیا وقت تھا اور کیا رنگ تھا کہ اس محبوب صلی الله علیہ وسلم نے یہ خواہش فرمائی۔بعض مسلمان اس حدیث کو دیکھ کر یہ ہی کھانا تیار کرکے حضور صلی الله علیہ وسلم کی فاتحہ کرکے مساکین کو کھلاتے ہیں،عشق کے رنگ نیارے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع