30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5102 -[35] وَعَنْهُ أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ يَتَعَجَّبُ وَيَتَبَسَّمُ فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ. قَالَ: «كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ».ثُمَّ قَالَ: "يَا أَبَا بَكْرٍ ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حقٌّ: مَا منْ عبدٍ ظلم بمظلمة فِي غضي عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَعَزَّ اللَّهُ بِهَا نَصْرَهُ وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً إِلَّا زَادَ اللَّهُ بِهَا كَثْرَةً وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً إِلَّا زَادَ اللَّهُ بِهَا قِلَّةً ". رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے ان ہی سے ایک شخص نے جناب ابوبکرکو برا کہا اور نبی صلی الله علیہ وسلم بیٹھے تعجب و تبسم فرمارہے تھے ۱؎ تو جب اس نے بہت زیادتی کی تو آپ نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا۲؎ اس پر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ناراض ہوکر اٹھ کھڑے ہوئے۳؎ ابوبکر حضور کے پیچھے پہنچے عرض کیا یارسول الله وہ مجھے برا کہتا رہا آپ بیٹھے رہے جب میں نے اس کی بات کا جواب دیا تو آپ ناراض ہوگئے اور کھڑے ہوگئے۴؎ فرمایا تمہارے ساتھ فرشتہ تھا جو اسے جواب دے رہا تھا ۵؎ پھر جب تم نے خود اسے جواب دیا تو شیطان پڑ گیا ۶؎ پھر فرمایا اے ابوبکر تین چیزیں بالکل حق ہیں:نہیں ہے کوئی بندہ جس پر ظلم کیا جاوے تو الله کے لیے چشم پوشی کرے مگر اس کے ذریعہ الله اپنی مدد بڑھادے گا ۷؎ اور کوئی شخص دینے کا دروازہ نہیں کھولتا جس سے صلہ رحمی کا ارادہ کرے ۸؎ مگر اس سے الله تعالٰی زیادتی مال اور بڑھا دیتا ہے ۹؎ اور کوئی شخص مانگنے کا دروازہ نہیں کھولتا جس سے زیادتی کا ارداہ کرے مگر اس سے الله تعالٰی کمی بڑھا دیتا ہے ۱۰؎ (احمد) |
۱؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تبسم حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کا تحمل و بردباری ملاحظہ فرماکر ان پر خوش ہونے کی وجہ سے تھا۔معلوم ہوا کہ حضور انور اپنی امت کے نیک اعمال سے بہت خوش ہوتے ہیں،ہم کو چاہیے کہ ہمیشہ نیک اعمال کیا کریں کہ حضور کو اس سے خوشی ہوتی ہے اللہ ہم کو توفیق دے کہ اپنے نبی کو خوش کرلیں ان کی خوشی ہمارے نیک بننے سے ہوگی۔
۲؎ حضرت ابوبکر صدیق کا جواب دینا بالکل جائز تھا اور ازروئے قرآن کریم بالکل حق تھا،قرآن کریم فرماتاہے:"وَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَہُمُ الْبَغْیُ ہُمْ یَنۡتَصِرُوۡنَ"اور فرماتاہے:"لَایُحِبُّ اللہُ الْجَہۡرَ بِالسُّوۡٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ"جناب صدیق اکبر اس وقت مظلوم تھے لہذا آپ پر کوئی اعتراض نہیں نہ آپ سے کوئی ناجائز کام سرزد ہوا۔
۳؎ اس ناراضی کی وجہ آگے آرہی ہے کہ ذاتی موذی سے بدلہ لینا شان صدیقی کے لائق نہیں،نیز تم یہ بدلہ اپنے خادم فرشتے کے ذمہ رہنے دو اس موذی کو تم خود کیوں منہ لگاتے ہو،مجرموں کو سزا بادشاہ اپنے ہاتھ سے نہیں دیتے بلکہ اپنے خدام سے سزا دلواتے ہیں۔
۴؎ یعنی یارسول الله میں نے اس پر ظلم نہیں کیا حضور پھر مجھ پر ناراض کیوں ہوئے،ظالم تو وہ ہے میں نے تو صرف بدلہ لیا ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی یہ ناراضی کسی بات کی بناء پر نہ تھی بلکہ افضلیت کی تعلیم کے لیے تھی جیساکہ آئندہ جواب سے معلوم ہورہا ہے۔خیال یہ بھی رہے کہ یہاں شتم بمعنی سب ہے یعنی برا کہنا بمعنی گالی نہیں اور یہ مطلب نہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق نے اسے جواب میں گالی دی آپ کی زبان مبارک جھوٹ اور گالی سے ہمیشہ محفوظ رہی۔
۵؎ اس طرح کہ جب وہ شخص تم سے کہتا تھا کہ ابوبکر آپ تو ایسے ہیں تو فرشتہ کہتا تھا ابوبکر تو اچھے ہیں تو ہی ایسا ہے۔معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی نورانی نگاہیں غیبی فرشتوں کو دیکھتی ہیں اور آپکے کان شریف فرشتوں کی آواز سنتے ہیں،یہ فرشتہ یا تو کوئی خاص فرشتہ تھا جو اس کام کے لیے مامور ہواتھا یا آپ کے ساتھ رہنے والا فرشتہ،پہلا احتمال قوی ہے۔
۶؎ یعنی اب تک تمہارا صبر رب کے لیے تھا اب تمہارا جواب دنیا نفس کے لیے ہوا یہ اگرچہ جائز ہے مگر چونکہ اس میں اپنی ذات کو اور غصہ کو دخل ہے اس لیے فرشتہ خاموش ہوگیا اور شیطان خوش ہونے لگا۔ممکن ہے کہ اب تم اس کے جواب میں زیادتی کردو اب تک وہ ظالم تھا پھر ظلم تمہاری طرف سے ہوجاوے۔(مرقات) معلوم ہوا کہ جائز کام بھی اگر نفس کے لیے ہو تو شیطان کی خوشی کا ذریعہ بن جاتاہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع