30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسلمان ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ قُلۡ رَّبِّ زِدْنِیۡ عِلْمًا"۔صوفیاء کرام فرماتے کہ باطنی ترقی کی انتہا نہیں کیونکہ وہ تجلی الٰہی سے ہے اور تجلی الٰہی کی انتہا نہیں حتی کہ اس کی انتہا جنت میں بھی نہ ہوگی،رب تعالٰی فرماتاہے:"لِلَّذِیۡنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَ زِیَادَۃٌ" یہ زیادتی ہمیشہ ہوتی رہے گی۔(مرقات)
|
5100 -[33] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُنْبِئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟» قَالُوا: بَلَى. قَالَ: «خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًا» رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تم کو تم میں سے بہترین کی خبر نہ دوں صحابہ نے عرض کیا ہاں فرمایاتم میں بہتر وہ ہیں جن کی عمریں دراز اور اچھے اخلاق ہوں ۱؎(احمد) |
۱؎ عمر کی درازی یا مقدار میں ہو یا کیفیت میں یا دونوں میں۔اچھے اخلاق اور سارے دینی و دنیاوی نیک اعمال داخل ہیں کیونکہ نیک اعمال کی اصل اچھی عادت ہے یعنی بڑا خوش نصیب ہے جسے الله تعالٰی لمبی عمر دے اور لمبی عمر میں نیک اعمال کرنے کی توفیق بخشے کہ قیامت میں عطا بقدر اعمال ہوگی۔
|
5101 -[34] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مسلمانوں میں کامل ایمان والا اچھے اخلاق والا ہے ۱؎(ابوداؤد،دارمی) |
۱؎ کیونکہ اچھی عادت سے عبادات اور معاملات دونوں درست ہوتے ہیں،اگر کسی کے معاملات تو ٹھیک مگر عبادات درست نہ ہوں یا اس کے الٹ ہو تو وہ اچھے اخلاق والا نہیں۔خوش خلقی بہت جامع صفت ہے کہ جس سے خالق اور مخلوق سب راضی رہیں وہ خوش خلقی ہے۔
|
5102 -[35] وَعَنْهُ أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ يَتَعَجَّبُ وَيَتَبَسَّمُ فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ. قَالَ: «كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ».ثُمَّ قَالَ: "يَا أَبَا بَكْرٍ ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حقٌّ: مَا منْ عبدٍ ظلم بمظلمة فِي غضي عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَعَزَّ اللَّهُ بِهَا نَصْرَهُ وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً إِلَّا زَادَ اللَّهُ بِهَا كَثْرَةً وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً إِلَّا زَادَ اللَّهُ بِهَا قِلَّةً ". رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے ان ہی سے ایک شخص نے جناب ابوبکرکو برا کہا اور نبی صلی الله علیہ وسلم بیٹھے تعجب و تبسم فرمارہے تھے ۱؎ تو جب اس نے بہت زیادتی کی تو آپ نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا۲؎ اس پر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ناراض ہوکر اٹھ کھڑے ہوئے۳؎ ابوبکر حضور کے پیچھے پہنچے عرض کیا یارسول الله وہ مجھے برا کہتا رہا آپ بیٹھے رہے جب میں نے اس کی بات کا جواب دیا تو آپ ناراض ہوگئے اور کھڑے ہوگئے۴؎ فرمایا تمہارے ساتھ فرشتہ تھا جو اسے جواب دے رہا تھا ۵؎ پھر جب تم نے خود اسے جواب دیا تو شیطان پڑ گیا ۶؎ پھر فرمایا اے ابوبکر تین چیزیں بالکل حق ہیں:نہیں ہے کوئی بندہ جس پر ظلم کیا جاوے تو الله کے لیے چشم پوشی کرے مگر اس کے ذریعہ الله اپنی مدد بڑھادے گا ۷؎ اور کوئی شخص دینے کا دروازہ نہیں کھولتا جس سے صلہ رحمی کا ارادہ کرے ۸؎ مگر اس سے الله تعالٰی زیادتی مال اور بڑھا دیتا ہے ۹؎ اور کوئی شخص مانگنے کا دروازہ نہیں کھولتا جس سے زیادتی کا ارداہ کرے مگر اس سے الله تعالٰی کمی بڑھا دیتا ہے ۱۰؎ (احمد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع